خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 538 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 538

خطبات طاہر جلد 17 538 خطبہ جمعہ 7 اگست 1998ء سے بہت اہتمام رہا ہے وہ اس جلسہ پر یاد آئیں اور ان کا تعلق قرآن کریم کی اس آیت سے ہے مَالِ هَذَا الكِتب لا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصُهَا۔(الکھف: 50) یہ عجیب کتاب ہے جو نہ کسی چھوٹی چیز کو چھوڑتی ہے نہ کسی بڑی چیز کو چھوڑتی ہے مگر تمام تر باتیں اس میں درج ہیں۔یہ بنیادی تعلیم ہے قرآن کریم کی جو دُنیا بھر کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے اور اسقام کی روک تھام کے لئے ، جو سقم ایک دفعہ پیدا ہو جائے اس کی روک تھام کے لئے، انتہائی ضروری ہے اور قادیان سے اسی قسم کی ایک روایت جلسہ سے تعلق میں چلی آرہی تھی جسے ایک دفعہ میں نے یہاں نافذ بھی کیا تھا مگر پھر بھلا دی گئی۔وہ روایت یہ ہے کہ ایک سرخ کتاب رکھی جاتی ہے اور جلسہ کے بعد تمام افسران اکٹھے بیٹھتے ہیں اور اس جلسہ میں جو جو خرابیاں پیدا ہوئیں ان کو سرخ کتاب میں درج کیا جاتا ہے اور وہ سرخ کتاب آئندہ جلسوں کے لئے راہنما بنتی چلی جاتی ہے اور تمام شامل لوگ جو اس جلسہ میں شامل تھے صرف ان کے ہی کام نہیں آتی بلکہ آئندہ آنے والے منتظمین کے بھی کام آتی ہے اور وہ پھر اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں اور پہلی باتوں کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیتے ہیں کہ ان خرابیوں کا اعادہ نہیں کرنا اور آئندہ کے لئے ذہن تیار ہو جاتے ہیں۔یہ سلسلہ قادیان سے جاری ہے ، ربوہ میں بھی جاری رہا اور انگلستان آنے کے بعد میں نے اس بارے میں ہدایت کی تھی اور کچھ عرصہ یہ کتاب یہاں چلی ہے لیکن جو بھولی ہوئی باتیں اس جلسہ میں یاد آئی ہیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ اس کے بعد اس کتاب کو متروک کر دیا گیا۔اب جب کہ جلسے کی انتظامی خرابیوں پر نظر پڑی تو ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ ساری کھوئی ہوئی روایات دوبارہ زندہ کرنے کی توفیق مل گئی اور یہ انتظامی کمزوریاں باہر والوں کو تو یعنی احمدیوں کو تو اتنی محسوس نہیں ہوں گی مگر بعض معززین جو آئے تھے انہوں نے اس طرف توجہ دلائی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس نے یہ سلسلہ شروع کر دیا کہ ہم نے تمام امور کی چھان بین کی ، ہر بات کو پیش نظر رکھا۔اسلام آباد کے قیام کے دوران بھی جو منتظمین تھے امیر صاحب کے ساتھ ، افسر جلسہ وغیرہ سارے ان سب کا با قاعدہ اجلاس رکھا گیا اور ایک اجلاس کافی نہیں ہوا، پھر رکھا گیا، پھر رکھا گیا اور پھر بھی معلوم ہوا کہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو رہ جاتی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مثال کے پیچھے تو چلا جا سکتا ہے، اس کی تکمیل کرنا انسان کے بس میں نہیں۔جس کتاب کا اللہ تعالیٰ ذکر فرماتا ہے یہ فرماتا ہے کہ نہ کوئی چھوٹی چیز چھوڑتی ہے نہ بڑی چھوڑتی ہے مگر ہم