خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 43
خطبات طاہر جلد 17 43 خطبہ جمعہ 16 جنوری 1998ء نے تحقیق کی کہ رمضان کب شروع ہوا تھا تو سر دیاں بنتی تھیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بات کا مجھے یقین تھا کہ اسی طرح ثابت ہوگی۔رمضان کا آغاز سردیوں میں ہوا ہے گرمیوں میں ہوا ہی نہیں۔پس آپ فرماتے ہیں: (اس لئے ) روحانی اور جسمانی حرارت اور تپش مل کر رمضان ہوا۔“ یعنی جسمانی طور پر انسان بھوک پیاس کی شدت برداشت کرتا ہے اور جدوجہد بہت کرتا ہے رمضان میں یہ اس کے لئے ایک حرارت ہے اور روحانی طور پر اس کی روح میں غیر معمولی طور پر گرمی پائی جاتی ہے اور بڑے جوش کے ساتھ اپنے رب کی طرف لپکتی ہے پس یہ دو گرمیاں ہیں جو مل کر رمضان ہوا۔اہل لغت جو کہتے ہیں کہ گرمی کے مہینہ میں آیا اس لئے رمضان کہلا یا میرے نزدیک یہ میچ نہیں ہے کیونکہ عرب کے لئے یہ خصوصیت نہیں ہوسکتی۔روحانی رمض سے مراد روحانی ذوق و شوق اور حرارت دینی ہوتی ہے۔رمض اس حرارت کو بھی کہتے ہیں جس سے پتھر وغیرہ گرم ہو جاتے ہیں۔“ الحکم جلد 5 نمبر 27 صفحہ :2 مؤرخہ 24 جولائی 1901ء) اب اس حرارت کو بھی کہتے ہیں جس سے پتھر گرم ہو جاتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ سخت دلوں کو پگھلانے کے لئے رمضان کو ایک خاص مزاج عطا ہوا ہے اور امر واقعہ یہی ہے کہ بہت سے سخت دل جو عام دنوں میں نرم نہیں ہوتے اور خدا تعالیٰ کے لئے اپنے آپ کو پگھلتا ہوا محسوس نہیں کرتے رمضان میں بعض ایسی راتیں آتی ہیں کہ بے اختیار ان کے دل خدا کے حضور سجدوں میں پگھل کر بہنے لگتے ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ فقرہ : رمض اس حرارت کو بھی کہتے ہیں جس سے پتھر وغیرہ گرم ہو جاتے ہیں۔یہ بے تعلق نہیں بلکہ حقیقتاً ہم نے اس کو ایسا ہی دیکھا ہے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے نسبتاً لمبے اقتباسات میں سے میں کچھ پڑھ کے سناتا ہوں۔تیسری بات جو اسلام کا رکن ہے وہ روزہ ہے۔روزہ کی حقیقت سے بھی لوگ ناواقف ہیں۔اصل یہ ہے کہ جس ملک میں انسان جاتا نہیں اور جس عالم سے واقف 66 نہیں اس کے حالات کیا بیان کرے۔“