خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 42
خطبات طاہر جلد 17 42 خطبہ جمعہ 16 جنوری 1998ء اب یہ بات بہت دلچسپ ہے کہ ، غافل لوگوں کے اتباع اور ان کے عیوب کی پیروی میں قوت بڑھاتا ہے۔رمضان کے مہینہ میں واقعۂ بعض منافقین اس کھوج میں لگے رہتے ہیں کہ کوئی شخص روزہ تو رکھتا ہے مگر فلاں عیب رکھتا ہے کوئی شخص بظا ہر عبادت کر رہا ہے مگر فلاں عیب بھی رکھتا ہے اور عجیب بات ہے کہ اس مہینہ میں اس مضمون کے خطوط بھی مجھے ملتے ہیں۔بلا استثناء ہمیشہ اس مہینہ میں ضرور ایسے خطوط ملتے ہیں جو رسول اللہ صلی ا یہ تم کی اس حدیث پر گواہ ہو جاتے ہیں۔بالکل سچ فرمایا۔ایسے بد نصیب لوگ ہیں کہ اپنے حال کی فکر نہیں مگر مومنوں کی نیکیوں پر حسد کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان میں عیوب ڈھونڈیں، ان میں ناسور ڈالنے کی کوشش کریں اور رمضان کے مہینہ میں اس میں تیزی آجاتی ہے۔اب مالی قربانیوں کے متعلق جہاں تک جماعت کو علم ہے خصوصیت کے ساتھ رمضان میں مالی قربانی کا حکم ہے اور مومنین ضرور کرتے ہیں اور انہی مالی قربانیوں کے متعلق کیڑے ڈالنے کے خطوط ملتے ہیں۔دیکھ لیا جی ہم نے فلاں شخص کو بڑا مالی قربانی کرتا پھرتا ہے لیکن یہ کمزوری پائی جاتی ہے ، وہ کمزوری پائی جاتی ہے۔پس فرمایا یہ حالت مومنوں کے لئے غنیمت ہے اور فاجر کے لئے اس کا فجور بڑھانے میں مددگار ہے۔پس اتنا ہی کہنا کافی ہے مزید تفصیلات میں میں نہیں جانا چاہتا۔استغفار سے کام لیں اور اس مہینہ میں لوگوں کے عیوب تلاش کرنے کی کوشش بالکل بند کر دیں۔اگر کوئی عیب تلاش کرتا ہے اور اس کا تذکرہ کرتا ہے اس کو کہہ دینا چاہئے کہ تم شیطان کے غلبہ کے نیچے ہو، تم عباداللہ میں لکھے جانے کے لائق نہیں اس لئے مجھے الگ چھوڑ دو۔اس مہینہ میں خصوصیت کے ساتھ ایسے لوگوں سے پر ہیز کریں۔اب میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض تحریرات آپ کے سامنے رکھتا ہوں جن میں سے ایک یہ ہے کہ : رمض سورج کی تپش کو کہتے ہیں۔“ یہ آپ کی تحریر ہے جس میں آپ فرماتے ہیں کہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ رمضان یعنی دو گرمیاں۔رمضان، رمض یعنی گرمی کو کہتے ہیں یہ نام اسی لئے رکھا گیا کہ رمضان گرمی کے مہینہ میں شروع ہوا تھا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں یہ غلط بات ہے۔دو گرمیاں ایک اور مضمون اپنے اندر رکھتا ہے اور اس کا گرمی کے مہینہ میں شروع ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔اس پر جب میں