خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 525
خطبات طاہر جلد 17 525 خطبہ جمعہ 31 جولائی 1998ء اس حدیث کا اب عام فہم ترجمہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں بتایا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرض نماز آنحضرت صلی ا السلام کے پیچھے پڑھتے تھے اور پھر اپنی قوم میں جا کر امامت کراتے تھے۔ ایک تو یہ بات پیش نظر رکھیں کہ غالباً صبح کی نماز ان نمازوں میں پیش نظر نہیں ہے کیونکہ صبح کی نماز کے لئے یہ ناممکن تھا کہ آپ حضرت اقدس محمد رسول اللہ صل للہ السلام کے پیچھے نماز پڑھتے اور پھر واپس جا کر اپنی قوم میں امامت کرواتے اور پھر لمبی سورتیں بھی پڑھتے اس لئے اس نماز کو مستثنی سمجھیں غالباً مغرب اور عشاء کی نمازیں مراد ہیں کیونکہ ان میں اونچی آواز سے تلاوت کی جاتی ہے۔ ایک دفعہ انہوں نے نماز میں سورۃ البقرۃ شروع کر دی۔ بہت لمبی سورۃ ہے، تقریباً تمام قرآن کی تعلیمات اس سورۃ میں بیان ہوئی ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی نماز مختصر کر لی یعنی ان سے الگ ہوا ،نماز مختصر پڑھی اور چلا گیا۔ اس بات کا علم جب معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہوا تو انہوں نے فرما یا شخص منافق ہے۔ جب یہ بات اس تک پہنچی وہ یہ سن کر آنحضرت صلی السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ صلیا ایلیم ہم لوگ سارا دن محنت کرتے ہیں اور اونٹوں پر پانی بھر کر لاتے ہیں۔ معاذ نے گزشتہ رات ہمیں نماز عشاء پڑھائی جس میں انہوں نے سورۃ البقرۃ کی تلاوت کی نماز عشاء کا نام لینے سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ مغرب کی ا نماز میں بھی لمبی تلاوت نہیں ہو سکتی تو وہ ایک ہی نماز تھی جس میں رات بارہ بجائے جا سکتے تھے اور وہ عشاء کی نماز تھی۔ جس میں انہوں نے سورۃ البقرۃ کی تلاوت کی۔ میں نے الگ ہو کر مختصر نماز پڑھ لی۔ معاذ نے مجھے منافق قرار دیا۔ معلوم ہوتا ہے معاذ وہاں موجود تھے اس کی وجہ یہ ہے کہ معاذ عشاء کی نماز میں بلکہ ہر نماز میں موجود ہوتے تھے تو یہ شکایت ان کی موجودگی میں کی گئی۔ یہ سن کر آنحضرت صلی اله السلام نے معاذ سے تین بار فرمایا کہ کیا تو فتنہ پیدا کرتا ہے، کیا تو فتنہ پیدا کرنے والا ہے، کیا تو فتنہ پیدا کرنے والا ہے۔ پھر فرمایا نماز میں وَالشَّمْسِ وَضُحَهَا (الشمس : 2) اور سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى (الاعلى : 2) یا ایسی ہی کوئی اور سورتیں پڑھا کرو۔ آنحضرت صلی ایم کا دستور عموماً خطابات میں بھی یہی تھا کہ اختصار سے کام لیا کرتے تھے مگر بعض دفعہ اس کے برعکس بھی دستور ثابت ہے۔ اس کی وضاحت اس لئے ضروری ہے کہ آپ لوگ مجھے دیکھتے ہیں کہ بعض دفعہ میں سات سات آٹھ آٹھ گھنٹے لوگوں کے ساتھ لگاتا ہوں ، ان کو نصیحت