خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 524 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 524

خطبات طاہر جلد 17 524 خطبہ جمعہ 31 جولائی 1998ء وقت کی رعایت سے ہمیں نصیحت فرمایا کر۔ ایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ اسلام ہمارے اکتا جانے کا خیال فرماتے ہوئے ایسا کیا کرتے تھے۔“ (صحیح البخاری، کتاب العلم ، باب من جعل الأهل العلم أياما معلومةً ، حدیث نمبر : 70 ) حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی لسما الم کا یہ طریق تھا کہ نگاہ رکھتے تھے کہ کوئی کمزور تھک نہ جائے اور کسی بیمار پر ضرورت سے بڑھ کر بوجھ نہ ڈالا جائے۔ نماز میں بھی اس بات کی پابندی اختیار فرمایا کرتے تھے یعنی جب خدا کے حضور حاضر ہوتے اور تمام تر تو جہات کو اللہ کے حضور پیش کر دیتے تو اس وقت بھی ایک بچہ کے رونے کی آواز آپ لیا کہ تم کو اپنی طرف متوجہ کر دیا کرتی تھی۔ چنانچہ ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی الیا کی کم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی السلام نے فرمایا، بخاری کتاب الأذان سے حدیث لی گئی ہے: میں نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہوں اور میرا ارادہ یہی ہوتا ہے کہ اس میں تلاوت لمبی کروں پھر کسی بچہ کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو اس کی ماں کو تکلیف میں ڈالنا مجھ پہ گراں گزرتا ہے سو میں نماز مختصر کر دیتے ماز مختصر کر دیتا ہوں۔“ (صحيح البخاري، كتاب الأذان، باب من أخف الصلاة عند بكاء الصبي ، حدیث نمبر : 707) اب ایک لمبی روایت ہے میرے خیال میں جس طرح وقت گزررہا ہے غالباً میں عربی عبارت پڑھنے کے باوجود بھی وقت کے اندر انشاء اللہ اس خطبہ کو ختم کر سکوں گا۔ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ مُعَاذَبْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَانَ يُصَلِّي مَعَ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمُ الصَّلَاةَ، فَقَرَأَ بِهِمُ البَقَرَةً قَالَ: فَتَجَوْزَ رَجُلٌ فَصَلَّى صَلاةً خَفِيفَةً، فَبَلَغَ ذُلِكَ مُعَادًا ، فَقَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ فَبَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ، فَأَتَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَوْمٌ تَعْمَلُ بِأَيْدِينَا، وَنَسْقِي بِنَوَاضِحِنَا، وَإِنَّ مُعَاذَا صَلَّى بِنَا البَارِحَةَ، فَقَرَأَ البَقَرَةً فَتَجَوَّزْتُ، فَزَعَمَ أَنِّي مُنَافِقٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا مُعَاذُ أَفَتَانٌ أَنْتَ ثَلَاثًا - اقْرَأْ : وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَسَبْحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى وَنَحْوَهَا “ 66 (صحيح البخاري، كتاب الأدب، باب من لم ير أكفار من قال ذلك متأولا ۔ ۔ ، حدیث نمبر : 6106)