خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 523 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 523

خطبات طاہر جلد 17 523 خطبہ جمعہ 31 جولائی 1998ء چونکہ جماعت احمد یہ عالمگیر کو بکثرت ایسی نصائح کی جارہی ہیں ، بکثرت ان کو ہدایت دی جارہی ہے کہ سب دنیا کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا لیں اور جس حد تک توفیق ملے بنی نوع انسان کی خدمت سرانجام دیں اس لئے اس خدمت کو انجام دینے کا طریق بیان کرنا بھی ضروری ہے اور ایسی خدمت سرانجام دیں جس میں وہ نہ تھکیں نہ ماندہ ہوں اور کسی وقت اکتا کر اسے چھوڑ نہ بیٹھیں۔یہ خدمت کی تعریف ہے جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اینم نے فرمائی۔چنانچہ فرمایا اے لوگو! اپنی طاقت کے مطابق اعمال بجالاؤ اور یاد رکھیں کہ آپ کی طاقت نیک اعمال بجالانے سے بڑھتی رہے گی۔اس لئے بہت گہری نصیحت ہے، بہت بڑے بڑے کام آپ سے متوقع ہیں لیکن بیک وقت اچانک آپ ان پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے۔اس لئے گھبرا کر ، اپنی طاقت سے بڑھ کر کام سرانجام دینے کی کوشش نہ کریں ، اگر ایسا کریں گے تو آپ تھک جائیں گے اور بالآخر اس کام کو بالا رادہ یا مجبوراً ترک کرنا پڑتا ہے۔اس لئے حضور اکرم سنی یا یہ تم کی اس نصیحت کو خوب اچھی طرح یادرکھیں۔تم تھک جاتے ہو، اللہ نہیں تھکتا۔اللہ کے کام تو اس دنیا میں جاری رہنے والے کام ہیں اور بہت وسیع ہیں۔سب دنیا کو اللہ کی راہ کی طرف بلانا اور اس راہ پر چلنے میں ان کی مدد کرنا ، ان کی تعلیم و تربیت کر کے بے خدا انسانوں کو باخدا انسان بنادینا یہ ایسا کام نہیں ہے جسے کوئی قوم بھی مکمل طور پر سر انجام دے سکے۔پس اگر زبردستی اپنے آپ کو مشقت میں ڈالو گے تا کہ اللہ کا کام پوری طرح سر انجام دے لو تو یہ کام ختم ہونے والا نہیں ہے۔اللہ تو نہیں تھکے گا اگر اس سے مقابلہ کرنا ہے تو دوڑ کر دیکھ لو تم تھک جاؤ گے اور اللہ نہیں تھکے گا۔اس لئے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ اعمال وہ ہیں جو اگر چہ تھوڑے ہوں مگران میں دوام ہو، ہمیشہ کے لئے کئے جائیں۔حضرت ابی وائل سے ایک حدیث مروی ہے اور یہ بخاری کتاب العِلْمِ سے لی گئی ہے۔ابو وائل نے روایت بیان کی عبد اللہ بن مسعودؓ کے متعلق۔وہ کہتے ہیں کہ : عبداللہ بن مسعودؓ ہر جمعرات کولوگوں کو وعظ کیا کرتے تھے۔ایک شخص نے ان سے کہا اے ابوعبدالرحمن میری خواہش ہے کہ آپ روزانہ ہمیں وعظ کیا کریں۔حضرت عبداللہ فرمانے لگے کہ میرے لئے یہ کوئی مشکل امر نہیں مگر مجھے پسند نہیں کہ تمہیں تھکا دوں۔میں موقع اور وقت کی مناسبت سے تمہیں وعظ کرتا ہوں جیسے آنحضرت سینی پیتم موقع اور