خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 522
خطبات طاہر جلد 17 522 خطبہ جمعہ 31 جولائی 1998ء وو عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِهِ، أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَ مُعَاذَا وَأَبَا مُوسَى إِلَى اليَمَنِ قَالَ : يَشِرًا وَلَا تُعَشِرًا، وَبَشِّرًا وَلَا تُنَفِّرًا، وَتَطَاوَعًا وَلَا تَخْتَلِفًا ۔ (صحیح البخاری، کتاب الجهاد والسير ، باب ما يكره من التنازع والاختلاف في الحرب ، حدیث نمبر :3038) یہ حدیث میں نے عربی میں بھی پڑھ دی ہے مگر آگے آئندہ وقت بچانے کے لئے میں صرف ترجمہ ہی پیش کرتا کرتا رہوں گا ورنہ شاید یہ مضمون ایک گھنٹے میں سمیٹا نہ جا سکے۔ سعید بن ابی بردہ کے دادا سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی الی السلام نے معاذ اور ابوموسی کو یمن روانہ کیا اور یمن بھیجتے ہوئے یہ نصیحت فرمائی کہ لوگوں کے لئے آسانی پیدا کرنا ، ان پر سختی نہ کرنا ، انہیں خوش رکھنا اور نفرت نہ پھیلانا اور آپس میں اتفاق رکھنا، اختلاف میں نہ پڑنا۔ دوسری حدیث بخاری كِتَابُ العِلْمِ سے لی گئی ہے۔ اس میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ السلام نے فرمایا کہ: آسانی پیدا کر و سختی نہ کرو اور خوشی کی بات سناؤ اور نفرت نہ دلاؤ۔“ (صحیح البخاری کتاب العلم ، باب ما كان النبي يتخولهم بالموعظة ۔ ۔ ، حدیث نمبر : 69) اس موقع پر جبکہ دنیا بھر سے احمدی اور بہت سے زائرین تشریف لائے ہوئے ہیں حضرت اقدس رسول اللہ صلی لا الہ سلم کی یہ نصیحت میں آپ کے سامنے دوہرا رہا ہوں ۔ دراصل احمدیت کی اشاعت کا مقصد یہ ہے جو ان دو احادیث میں بیان فرمادیا گیا ہے۔ سختی سے پیش آنا یا سختی کی تعلیم دینا یہ اسلام کے منافی ہے۔ اور اسلام کا لفظ اس تعلیم کے منافی ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ مذہب کا نام تو اسلام ہو یعنی سلامتی کا پیغام دے رہا ہو اور سختی کی تعلیم ہو اور نفرت کی تعلیم ہو۔ پس یہ بات اچھی طرح پلے باندھ لیں کہ ہمارا اشاعت دین کا کام اس امر پر مبنی ہے کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی السلام کی ان نصائح پر پوری طرح احتیاط کے ساتھ کار بند رہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بخاری كتاب اللباس میں یہ روایت مروی ہے کہ آنحضرت صلی السلام نے فرمایا : ”اے لوگو! اپنی طاقت کے مطابق اعمال بجالاؤ کیونکہ تم تھک جاتے ہو اللہ نہیں تھکتا اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ اعمال وہ ہیں جو اگر چہ تھوڑے ہوں لیکن ان میں دوام ہو ۔ 66 (صحیح البخارى، كتاب اللباس، باب الجلوس على الحصير ونحوه، حدیث نمبر :5861)