خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 41 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 41

خطبات طاہر جلد 17 41 خطبہ جمعہ 16 جنوری 1998ء کا رمضان وہ زنجیریں لے کر نہیں آتا، منافقین اسی طرح کھلے ہوتے ہیں اور جو چاہیں شرارتیں کرتے پھریں بلکہ رمضان میں ان کی شرارتیں پہلے سے بڑھ جایا کرتی ہیں۔یہ مضمون ہے جو اس حدیث میں یوں بیان ہوا ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی لا یہ تم نے فرمایا: تمہارا یہ مہینہ تمہارے لئے سایہ فگن ہو۔“ یعنی تمہارا یہ مہینہ تم پر سایہ ڈال دے۔یہ سایہ فگن ہونے کے بعد ابو ہریرہ رسول اللہ لی ایم کی طرف یہ بات منسوب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی علیم کا حلفی ارشاد ہے کہ مومنوں کے لئے اس سے بہتر مہینہ کوئی نہیں گزرا۔(اس لئے میں نے شروع میں تمہید میں کہا تھا رسول اللہ صلی سیستم فرماتے ہیں کہ ) اس سے بہتر مہینہ مومن کے لئے متصور ہو ہی نہیں سکتا اور منافق کے لئے اس سے برا مہینہ اور کوئی نہیں گزرا۔“ پس اگر شیطان سب کے لئے قید ہو تو منافق کے لئے بھی قید ہونا چاہئے۔صاف ظاہر ہے کہ رمضان میں اس کا شیطان اور بھی پر پرزے نکالتا ہے اور پہلے سے زیادہ بڑھ کر شرارتیں کرتا ہے۔اس مہینہ میں داخل کرنے سے قبل ہی اللہ عز وجلت مومن کے اجر اور نوافل لکھ دیتا ہے۔“ داخل ہونے سے قبل ہی لکھ دیتا ہے مراد یہ ہے کہ اس کا مقدر ہی نیکی ہے اس کے سوا کچھ ہو نہیں سکتا۔جو سچے دل سے ایمان لاتے ہوئے اس مہینہ میں داخل ہوگا گویا اس کا اجر پہلے سے لکھا گیا ہے اس کو اپنے اجر کے بارے میں شک کی ضرورت نہیں جبکہ منافق کے گناہوں کا بوجھ اور بدبختی لکھ دیتا ہے یعنی منافق پر بھی یہ بات لکھی جاتی ہے کہ اس مہینہ سے گزر کے تم پہلے سے زیادہ بد بخت ہو جاؤ گے کیونکہ نیکی کا موقع پاؤ گے اور ہاتھ سے کھو دو گے۔پس تمہاری بدبختی پہلے سے زیادہ بڑھ جائے گی۔فرمایا: اس طرح کہ مومن مالی قربانیوں کے لئے اپنی طاقت تیار کرتا ہے اور منافق غافل لوگوں کے اتباع اور ان کے عیوب کی پیروی میں قوت بڑھاتا ہے۔“ (شعب الأيمان، باب فی الصیام / فضائل شهر رمضان، حدیث نمبر : 3607)