خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 516
خطبات طاہر جلد 17 516 خطبہ جمعہ 24 جولائی 1998ء پاک نمونہ کو آپ لوگ بھی پکڑیں۔جو باہر سے آنے والی پاکستان سے آنے والی بچیاں یا دوسرے ممالک سے آنے والی بچیاں ہیں ان میں بعض اوقات میں نے ناحق آزادی کا رجحان دیکھا ہے۔ان کو پتا نہیں کہ انگلستان کی بچیاں اللہ کے فضل سے بہت بلند ہو چکی ہیں اور جو باہر سے آنے والی ہیں وہ لاہور کا معاشرہ ، کراچی کا معاشرہ، پنڈی کا معاشرہ ، وہ لئے ہوئے آئی ہیں اور وہاں آج کل بے پردگی عام ہو رہی ہے اس لئے یہ نہ سمجھیں کہ آپ اپنی عادات ان کو سکھانے آئی ہیں۔آپ نے ان سے عادات سیکھنی ہیں۔تو اگر آپ احمدی ہیں اور مہمان کے طور پر آئی ہیں تو جلسہ کے دنوں میں آپ پر فرض ہے اور آپ کے ماں باپ پر فرض ہے کہ آپ کو سلیقے کے ساتھ چلنا پھرنا سکھائیں۔اگر پردے کی عمر نہیں بھی لیکن اتنی عمر ہو گئی ہے جو بیچ بیچ کی عمر ہوتی ہے جہاں پردہ پورا کرو نہ کرو درمیان میں اختیار ہوتا ہے اس عمر کی بچیوں کو خصوصیت کے ساتھ اپنے سرکو اور اپنی چھاتی کو ڈھانپ کر رکھنا چاہئے اور ڈھانپتے وقت بالوں کی نمائش نہیں ہونی چاہئے۔بعض سر پر دوپٹہ اور پیچھے سے کٹے ہوئے بال نمایاں لہراتی پھرتی ہیں۔بعض عورتیں ایسا بھی کرتی ہیں۔مجھے ملاقات کے دوران ان سے واسطہ پڑتا ہے۔مجھے تکلیف تو ہوتی ہے مگر اس وقت جیسا کہ اکرام کا حق ہے میں مجبوراً ان کو دو ٹوک نہیں کہتا لیکن بعض دفعہ بعد میں ان کے ماں باپ کو سمجھا دیتا ہوں۔تو اس موقع پر ہر قسم کی آنے والیاں ہوں گی ان کا لحاظ کریں اور لجنہ کی جو سلیقے والی بچیاں ہیں جن کو بات کرنے کا اچھا سلیقہ آتا ہے ان کی ڈیوٹی ہونی چاہئے کہ ایسی عورتوں اور لڑکیوں کو علیحدگی میں نرم الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کریں۔فذكر إِنْ نَفَعَتِ الذِكرى ( الاعلى : 10) نصیحت ضرور فائدہ پہنچاتی ہے اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ اس جلسہ میں اس پہلو سے بھی ان کو سدھارنے کا انتظام ہوگا۔بہر حال جن کو نقاب میں کوئی دقت ہے بعض دفعہ طبی لحاظ سے وقت ہوتی ہے ان کا پھر یہ حق نہیں کہ سرخی پاؤڈر لگا کر اپنے آپ کو پوری طرح سجا کر باہر پھریں۔رستوں کا حق۔آنحضرت صلی للہ کی تم نے اس کو بھی ایمان کا ادنی شعبہ قرار دیا ہے کہ رستوں کا حق ادا کرو اور رستوں کے حق میں جو باتیں بیان فرمائی ہیں وہ خلاصہ میں ہر جمعہ پر جو ان دنوں میں آیا کرتا ہے پہلے بھی بیان کرتارہا ہوں اب پھر بیان کر رہا ہوں۔ایک تو یہ کہ جو بازار یاد کا نہیں وغیرہ ہیں ان کے ارد گرد جم گھٹ لگا کر کھڑا نہ ہوا کریں۔جو چیز خریدی، لیں اور الگ کھلی جگہ جا کر اس کو کھائیں پئیں۔