خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 512 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 512

خطبات طاہر جلد 17 512 خطبہ جمعہ 24 جولائی 1998ء ( جو ایک ) یہ بھی ان کا احسان ہے کہ نرمی سے بات کرتے ہیں ( یعنی باہر سے آنے والے مہمان اکثر خوش خُلق ہی ہوتے ہیں ) خدا کرے کہ ہماری جماعت پر وہ دن آوے کہ جو لوگ محض نا واقف ہیں اگر وہ آویں تو بھائیوں کی طرح سلوک کریں۔“ ( البدر جلد 2 نمبر 7 صفحہ:51،مؤرخہ 6 مارچ 1903ء) بعض دفعہ جلسہ کے دنوں میں موسم بھی خراب ہو جاتا ہے۔اس خراب موسم میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کیا توقع رکھتے ہیں۔فرمایا: " آج کل موسم بھی خراب ہے اور جس قدر لوگ آئے ہوئے ہیں یہ سب مہمان ہیں اور مہمان کا اکرام کرنا چاہئے۔( اس میں احمدی اور غیر احمدی مہمان کا فرق نہیں کیا گیا۔مسلم غیر مسلم کا فرق نہیں کیا گیا) اس لئے کھانے وغیرہ کا انتظام عمدہ ہو اگر کوئی دودھ مانگے ( تو ) دودھ دو، چائے مانگے ( تو ) چائے دو۔کوئی بیمار ہو تو اس کے موافق الگ کھانا اسے پکا دو۔“ (البدر جلد 2 نمبر 33 صفحہ : 358 ، مؤرخہ 4 ستمبر 1903ء) اب مجھے یہ تو علم نہیں کہ دودھ کا کوئی انتظام جماعت کی طرف سے ہوتا ہے یا نہیں مگر مسلسل چائے کا لنگر تو جاری رہتا ہے اور اس کے علاوہ پر ہیزی کھانا یا ایسا کھانا جو پر ہیزی تو نہیں مگر بیمار بھی کھا سکتے ہیں ایسے کھانے کا انتظام ہوتا ہے۔ایک موقع پر آپ نے میاں نجم الدین جو مہتم لنگر خانہ تھے ان کو بلا کر فرمایا: دیکھو بہت سے مہمان آئے ہوئے ہیں ان میں سے بعض کو تم شناخت کرتے ہو اور بعض کو نہیں اس لئے مناسب یہ ہے کہ سب کو واجب الاکرام جان کر تواضع کرو۔(خواہ پہچانو یا نہ پہچانو ، ہوسکتا ہے کہ کسی قوم کا کوئی معزز شخص بھی ہو۔ہر ایک سے ایسا سلوک کرو گویا ہر ایک شخص صاحب اکرام ہے ) سردی کا موسم ہے چائے پلاؤ اور تکلیف کسی کو نہ ہو۔( یہاں جماعت U۔K کے لئے کچھ آسانی ہے دودھ کا ذکر نہیں ) سردی کا موسم ہے چائے پلاؤ اور تکلیف کسی کو نہ ہو۔تم پر میرا حسن ظن ہے کہ مہمانوں کو آرام دیتے ہو۔ان 66 سب کی خوب خدمت کرو۔اگر کسی گھر یا مکان میں سردی ہو تو کٹڑی یا کوئلہ کا انتظام کر دو۔“ ( البدر جلد 3 نمبر 2 صفحہ : 13 ، مؤرخہ 8 جنوری 1904ء)