خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 511 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 511

خطبات طاہر جلد 17 511 خطبہ جمعہ 24 جولائی 1998ء مسلسل کھانسی ہوتی تھی۔حضرت مصلح موعودؓ کو جب کھانسی ہوتی تھی تو یہ بھی یادرکھیں کہ آپ نے کبھی بھی اس وقت کے بہترین ایلو پیتھک علاج سے اجتناب نہیں فرمایا اس کے باوجو دساری عمر کھانسی لگی رہی اور بولنے والوں کو طبعاً کھانسی ہو بھی جاتی ہے۔تو یہ اللہ کا بہت احسان ہے کہ میں چونکہ اپنا علاج ساتھ ساتھ خود کرتا رہتا ہوں اس لئے بہت حد تک کھانسی سے بچ گیا ہوں۔اس زمانہ میں کب لوگ حضرت مصلح موعودؓ کو کہہ کے تنگ کیا کرتے تھے کہ او ہو اب آپ کو کھانسی ہوئی ، اب آپ کو کھانسی ہوئی ، اب آپ کو کھانسی ہوئی۔وہ قہوہ پیتے جاتے تھے اور کھانسی ہوتی جاتی تھی۔تو آپ کی یہ باتیں آپ کے دخل دینے والی ہیں ہی نہیں ، ان کو بالکل چھوڑ دیں۔جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے مجھے خدا کے فضل سے اگر کھانسی اٹھی بھی تو ہر گز کوئی تکلیف محسوس نہیں کرتا۔نہ چھاتی میں، نہ گلے میں، ادنیٰ سا بھی درد کا احساس نہیں ہوتا۔کثرت سے بولنے کے نتیجے میں بعض دفعہ ہلکی سی ایک خراش سی پیدا ہوتی ہے جس کے نتیجے میں کھانسی اٹھتی رہتی ہے۔اگر ایسا ہو جو میری صورت میں اب بہت کم ہوتا ہے تو ہونے دیں، ہرگز کوئی فکر کی بات نہیں ہے۔اب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک روایت آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس میں ہمارے لئے جلسہ کے دنوں میں بہت سے سبق ہیں۔فرمایا: اگر کوئی مہمان آوے اور سب و شتم تک بھی اس کی نوبت پہنچے، تو تم کو چاہئے کہ چپ کر رہو۔جس حال میں کہ وہ ہمارے حالات سے واقف نہیں ہے نہ ہمارے مریدوں میں وہ داخل ہے تو کیا حق ہے کہ ہم اس سے وہ ادب چاہیں جو ایک مرید کو کرنا چاہئے۔“ اب اس میں دو باتیں ہیں۔ایک یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے مریدوں سے ہرگز توقع نہیں رکھتے تھے کہ وہ سب وشتم سے کام لیں۔پس اگر کوئی سب و شتم یعنی گالی گلوچ سے کام لے رہا ہے تو آپ کو توقع رکھنی چاہئے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مرید نہیں ہے اور جو مرید ہے اسے سوچنا چاہئے کہ اس سے مسیح موعود کو کیا تو قع تھی۔جو سنے والا ہے وہ یہی سمجھے کہ یہ مرید نہیں ہے اور صبر سے کام لے اور جو مرید ہے وہ اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھے کیا کر رہا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس سے کیا تو قع تھی۔فرمایا: