خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 509
خطبات طاہر جلد 17 509 خطبہ جمعہ 24 جولائی 1998ء پہلے پوری طرح عبادت گزار نہیں تھے وہ پہلے سے بڑھ کر عبادت گزار ہو گئے۔تو یہاں اگر آپ عبادت کے ڈھنگ سیکھیں گے تو واپسی پہ یہ دعامانگ سکیں گے۔حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی ایام کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "جو شخص کسی مکان میں رہائش اختیار کرتے یا کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے وقت یہ دعا مانگے، میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں اور اس شر سے جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے پناہ مانگتا ہوں تو اس شخص کو وہاں رہائش ترک کرنے یا اس جگہ سے کوچ کرنے تک کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی۔“ (صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعا، باب فى التعوذ من سوء القضاء۔۔۔،حدیث نمبر : 6878) اب یہ خیال کریں گے کہ منہ سے یہ دعا کرنے کے نتیجے میں پیچھے ہر گز کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوگا تو اس کا مطلب ہے آپ نے اس کے مرکزی پیغام کو سمجھا نہیں ، میں اللہ تعالیٰ کے کلمات کی پناہ میں آتا ہوں مکمل طور پر اور اس شر سے جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے پناہ چاہتاہوں۔تو جو شر سے پناہ مانگ رہا ہے وہ شر سے پناہ دینے والا بھی ہوگا۔اگر شر سے پناہ دینے والا نہ ہو تو اس کے حق میں یہ وعدہ پورا نہیں ہوسکتا کہ شروع سفر سے واپسی تک اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا لیکن اگر اس طرح لازماً اللہ کی پناہ مانگے کہ خود بھی لوگوں کو شر سے پناہ دینے والا ہو اور اس سے کوئی شر کسی کو نہ پہنچے تو مجھے کامل یقین ہے کہ اس کو کوئی چیز بھی گزند نہیں پہنچائے گی۔اب میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مہمان نوازی سے تعلق رکھنے والی روایات میں سے جو بکثرت ہیں صرف چند چن کے آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جو میرا خیال ہے شاید پہلے بیان نہ ہوئی ہوں اور اگر بیان ہو بھی گئی ہوں تو آج کل کے موقع پر ان کا دوہرانا مناسب ہے۔سید حبیب اللہ صاحب کو مخاطب کر کے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: " آج میری طبیعت علیل تھی اور میں باہر آنے کے قابل نہ تھا مگر آپ کی اطلاع ہونے پر میں نے سوچا کہ مہمان کا حق ہوتا ہے جو تکلیف اٹھا کر آیا ہے اس واسطے میں اُس حق کو ادا کرنے کے لئے باہر آ گیا ہوں۔“ ( البدر جلد 6 نمبر 13 صفحہ:8 مؤرخہ 28 مارچ1907ء)