خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 508
خطبات طاہر جلد 17 508 خطبہ جمعہ 24 جولائی 1998ء ”اے ہمارے خدا! تو اس سفر میں ہمارے ساتھ ہو اور پیچھے گھر میں خبر گیر ہو۔اے ہمارے خدا! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر کی سختیوں سے، ناپسندیدہ اور بے چین کرنے والے مناظر سے، مال اور اہل وعیال میں بُرے نتیجے سے اور غیر پسندیدہ تبدیلی سے۔“ کوئی پہلو بھی ایسا نہیں جس کو حضور اکرم صلی ایتم نے نظر انداز فرما دیا ہو۔سفر کے دوران جو کچھ پیش آسکتا ہے ان سب کے لئے آپ صلی اشیا کی تم نے دعا کی ہے کہ اچھی باتیں تو پیش آئیں سفر سے وابستہ کوئی بری باتیں پیش نہ آئیں اور پیچھے رہ جانے والوں کے لئے بھی دعا کی ہے جن کی طرف لوٹ کر جارہے ہیں ان کے لئے بھی دعا کی ہے۔غیر پسندیدہ تبدیلی۔“ اس دعا میں صرف گھر والے ہی پیش نظر نہ رکھیں بلکہ ملک والے بھی پیش نظر رکھیں۔آج تک تو ہم یہی دیکھ رہے ہیں کہ ہر تبدیلی نا پسند یدہ ہی ہو رہی ہے۔پس شاید آپ جو یلہ سفر کر کے یہاں آئے ہیں آپ کی دعاؤں کی برکت سے واپسی پہ آپ کچھ اچھی تبدیلیاں بھی دیکھ لیں۔تو محض گھر والوں کے لئے اچھی تبدیلیوں کی نہیں بلکہ اپنے اہل وطن کے لئے بھی اچھی تبدیلیوں کی دعا کرتے ہوئے جائیں۔پھر جب آپ سفر سے واپس آتے تو یہی دعا مانگتے اور اس میں یہ زیادتی فرماتے۔“ یعنی سفر سے واپسی والوں کے لئے یہ زیادتی ہے اس دعا میں آتی دفعہ بھی پچھلوں کے لئے یہ دعامانگا کرتے تھے کہ جب ہم واپس جائیں تو یہ کچھ ہو۔واپسی پر بھی بعینہ وہی دعا مانگتے تھے مگر اس میں ایک چیز کا اضافہ فرما دیتے تھے۔”ہم واپس آئے ہیں تو بہ کرتے ہوئے عبادت گزار اور اپنے رب کی تعریف میں رطب اللسان بن کر 66 (صحیح مسلم ، کتاب الحج، باب استحباب الذكر اذا ركب دابته ، حدیث نمبر : 3275) تو یہاں جلسہ پر جو آپ سیکھیں گے اس کے نتیجے میں آپ کو زیب دے گا کہ یہ بھی اس سفر کی دعا میں شامل کر لیں کہ اے ہمارے رب ہم تو بہ کرتے ہوئے تیری طرف لوٹ رہے ہیں، عبادت گزار بنتے ہوئے اور اپنے رب کی تعریف میں رطب اللسان ہوتے ہوئے۔عبادت کے مضمون پر میں بہت سے خطبات دے چکا ہوں مگر جلسہ کے دوران عبادت کی طرف متوجہ کرنے کے لئے یہ حدیث میرے کام آئی ہے۔جب واپسی پہ عبادت گزار کا ذکر فرمایا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ سفر کے دوران جو