خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 40 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 40

خطبات طاہر جلد 17 40 خطبہ جمعہ 16 جنوری 1998ء عبدالرحمن سے کہا تھا۔( یہ کیا خیال آیا ان کو معلوم ہوتا ہے کوئی یہ روایت عام ہوئی ہوگی اور اس کا چر چا انہوں نے سنا ہوگا اور وہ چاہتے ہوں گے کہ میں ان کی زبان سے خودسن لوں ) ابوسلمہ بن عبد الرحمن نے کہا ہاں مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی سلیم نے فرمایا کہ اللہ تبارک تعالیٰ نے رمضان کے روزہ رکھنے تم پر فرض کئے اور میں نے تمہارے لئے اس کا قیام جاری کر دیا پس جو کوئی ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے روزہ رکھے وہ گناہوں سے ایسے نکل آتا ہے جیسے اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہو۔“ (سنن النسائی، کتاب الصیام ذكر اختلاف يحي بن أبي كثير والنضر بن شیبان فيه، حدیث نمبر : 2212) یہ وہی حدیث ہے جو گزشتہ سال بھی میں نے بیان کرتے ہوئے یہ عرض کیا تھا کہ ثواب کی نیت سے روزے رکھے کا ترجمہ درست نہیں ہے۔یہ رواجی ترجمہ ہے اور ثواب کی نیت سے ہی روزے رکھے جاتے ہیں کبھی میں نے کسی کو گناہ کی نیت سے روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔پس ثواب کی نیت سے روزہ رکھنا احتساب کا غلط ترجمہ کیا گیا ہے۔جو روزہ اس لئے رکھے کہ اپنے نفس کا احتساب کرے اور بار یک نظر سے اپنے اعمال کا جائزہ لے کہ ان میں کہیں کسی قسم کی غیر اللہ کی ملونی تو داخل نہیں ہو رہی۔یہ ترجمہ اگر کیا جائے تو پھر باقی مضمون بالکل ٹھیک بنتا ہے۔ایسا شخص جب رمضان سے گزرے گا تو گویا اسے نئی زندگی ملی ہے۔جیسے ماں نے اسے جنم دیا ہے۔پس اس پہلو سے یاد رکھیں جو الفاظ ہیں وہ یہ ہیں: "مَن صَامَهُ وَقَامَهُ إِيمَاناً واحتساباً “ یہ لفظ احتساب ہے جس کا ترجمہ ہمارے تراجم میں غلط رنگ میں راہ پا گیا ہے اور اس کو احتساب سمجھنا ضروری ہے ورنہ اس کے بعد كَيَومٍ وَلَدَتْهُ أُمہ کے الفاظ نہیں آ سکتے۔احتساب ہی ہے جو انسان کو ایسا پاک صاف کر سکتا ہے کہ گویا اس کی ماں نے اسے نیا جنم دیا ہے۔اب یہ جو خیال تھا کہ رمضان میں ہر ایک کے اوپر زنجیریں کس دی جاتی ہیں اور شیطان کو راہ نہیں ملتی کہ مومنوں میں دخل اندازی کر سکے میں نے بتایا تھا کہ یہ مضمون ہر گز نہیں ہے۔اللہ کے بندے زنجیروں میں گئے جاتے ہیں یعنی وساوس کے معاملہ میں، شیطانی خیالات کے معاملہ میں وہ خدا کے قیدی ہو جاتے ہیں اور وساوس ان کو چھو نہیں سکتے۔یہی مضمون اس حدیث سے ثابت ہے کہ منافقین