خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 39 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 39

خطبات طاہر جلد 17 39 خطبہ جمعہ 16 جنوری 1998ء الله تعالى ، بَاعَدَ اللهُ بَيْن وَجْهِهِ وَ بَيْنَ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا : اس کے اور آگ کے درمیان ستر خریف کا فاصلہ کر دیتا ہے۔اب اللہ کا چہرہ ایک ایسی چیز ہے جسے یادرکھنا چاہئے تھا۔ترجمہ میں فضل ترجمہ ہوا ہے حالانکہ چہرہ کے مقابل پر چہرہ رکھا گیا ہے۔فرمایا تم اللہ کا چہرہ چاہو گے تو اللہ کے چہرہ والے کو پھر آگ چھو نہیں سکتی ، اس کے چہرہ کو آگ چھو نہیں سکتی۔یہ ناممکن ہے۔جسے اللہ کا چہرہ نصیب ہو جائے اس کے چہرہ کو آگ کیسے چھو سکتی ہے۔یہ مضمون تھا جس کو ترجمہ میں ذرا دھیما کر دیا گیا۔فضل اس کا ترجمہ جائز ہے مگر یہاں جس خوبصورتی کے ساتھ حدیث نے ایک وجہ کو دوسرے وَجْهِ کے ساتھ ملایا ہے اسے اسی طرح رہنے دینا چاہئے تھا۔وَجْہ کو وجہ ہی رہنے دینا چاہئے تھا۔اب ستر خریف کا فاصلہ یہ کیا چیز ہے؟ خریف سرما اور گرما کے درمیان کے زمانہ کو کہتے ہیں یعنی سردیوں اور گرمیوں کے درمیان ایک زمانہ آتا ہے جو ان دونوں کو ملنے سے روکتا ہے، بیچ میں حائل ہو تو سردیاں گرمیوں سے نہیں مل سکتیں۔تو ناممکن ہے کہ دونوں ایک ہی جیسے موسم گزرجائیں یعنی سردیاں بھی اور گرمیاں بھی۔بیچ میں ایک موسم حائل ہو جاتا ہے لیکن لفظ ستر کو خصوصیت سے پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔فرمایا ستر خریفوں کا فاصلہ، اب ستر خریفوں کا فاصلہ ویسے تو تصور میں نہیں آسکتا کہ ایک خریف نہیں، دو نہیں ، تین نہیں ،ہستر خریف ہیں لیکن معاملہ اس سے زیادہ آگے ہے کیونکہ ستر کا لفظ عربی میں زمانہ کے بے شمار ہونے کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ستر کا لفظ قرآن کریم سے اور احادیث سے ثابت ہے یہ محض عد دستر پر اطلاق نہیں پاتا بلکہ ایک لامتناہی زمانہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔پس لفظ ستر کو خصوصیت کے ساتھ ان معنوں میں آپ پیش نظر رکھیں کہ مراد یہ ہے کہ ناممکن ہے۔کوئی صورت ایسی نہیں کہ یہ چہرہ آگ دیکھ سکے۔یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ ہم سب کو اللہ کا یہ چہرہ دکھا دے۔جس چہرہ کو خدا اپنا وہ چہرہ دکھا دے جو اس نے محمد رسول اللہ صلی لہ یہ تم کو دکھایا تھا اس چہرہ پر آگ حرام ہو جاتی ہے۔ناممکن ہے کہ اسے آگ چھوئے۔آنحضرت صلی الی یتم فرماتے ہیں: روزہ گناہوں کو یکسر مٹادیتا ہے۔“ نضر بن شیبان" کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ بن عبد الرحمن سے کہا آپ مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جو آپ نے اپنے والد سے سنی ہو اور انہوں نے ماہ رمضان کے بارے میں آنحضرت صلی لا یہ نام سے براہ راست سنی ہو۔نذر بن شیبان کہتے ہیں میں نے ابو سلمہ بن