خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 495 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 495

خطبات طاہر جلد 17 495 خطبہ جمعہ 17 جولائی 1998ء یہاں ایک اور معنی اس آیت کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے جس پر عام طور پر مفسرین کی نظر نہیں جاتی۔يُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ کا یہ مطلب لیا جاتا ہے جو اپنی جگہ درست ہے کہ وہ مال سے خدا کی راہ میں اس وقت بھی خرچ کرتے ہیں جبکہ ان کو مالی تنگی کا سامنا ہو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے علاوہ ایک اور مضمون اس آیت میں پڑھا ہے۔يُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِم خواہ ان کو مالی تنگی خدمت سے باز رکھتی ہو۔یعنی مالی خدمت سے باز رکھتی ہو وہ نفس کی قربانی سے باز نہیں آتے۔يُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ اپنے نفس کو اس راہ میں خرچ کر دیتے ہیں۔بہت ہی پیاری تفسیر ہے جس کو دیکھ کر انسان عش عش کر اٹھتا ہے۔اب یہ تفسیر کیا نعوذ باللہ من ذلک گندوں کو بھی عطا ہو سکتی ہے۔جن کے دل اللہ پاک کرے ان کے سوا کسی کو یہ تفسیر عطا ہو ہی نہیں سکتی اور دشمن ، بد زبان، احمق اگر صرف اس ایک تفسیر پر غور کر لے جیسے میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بیان کیا ہے ہر تفسیر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک ایسا رنگ ہے جو عارف باللہ کے سوا کسی کو نصیب نہیں ہو سکتا۔تو دشمن اگر اس چیز کو دیکھ لے تو ہرگز کبھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف بد کلامی کی جسارت نہیں کر سکتا۔ایمان لانا یا نہ لانا یہ الگ مسئلہ ہے مگر ایسے پاکباز پر بدزبانی کی جسارت نہیں کی جاسکتی جو اللہ کے عشق میں گم ہو اور اسی کی ہدایت سے عارفانہ نکات اس کو ملتے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : یہ ظاہر ہے کہ تم دو چیز سے محبت نہیں کر سکتے اور تمہارے لئے ممکن نہیں کہ مال سے بھی محبت کرو اور خدا سے بھی (کرو)۔( بیک وقت ایک سینے میں یہ دو محبتیں جمع نہیں ہوسکتیں ) پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ خدا سے محبت کرے اور اگر کوئی تم میں سے خدا سے محبت کر کے اس کی راہ میں مال خرچ کرے گا تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اس کے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی جائے گی۔“ یہاں نیت کی اصلاح بہت ضروری ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ اپنا مال بڑھانے کی خاطر خدا سے محبت کرے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ خالص اللہ کی محبت کی وجہ سے مال خرچ کر دے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ مشاہدہ ہے کہ اگر چہ ان کی نیت یہ نہیں بھی ہوتی تب بھی خدا ان کے مال میں دوسروں کی نسبت زیادہ برکت ڈال دیتا ہے۔کیوں؟ فرمایا: وو