خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 38 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 38

خطبات طاہر جلد 17 38 88 خطبہ جمعہ 16 جنوری 1998ء جن دنوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعدہ ہے کہ اگر تم جلدی میری باتوں کو قبول کرو گے تو میں قریب کھڑا ہوں تمہیں فوری جواب ملے گا۔تو اس فوری جواب کا وقت جیسا کہ رمضان گزرنے کا تعلق ہے کم ہوتا جارہا ہے لیکن ویسے یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ آیت ہمیشگی کا مضمون رکھتی ہے۔رمضان کے لئے ایسی خاص نہیں کہ اس کے بعد اس میں اس کا مضمون اطلاق نہ پائے لیکن جو رمضان میں قرب کا مضمون ملتا ہے ویسا اور کسی مہینہ میں دکھائی نہیں دیتا۔اسی لئے حضرت محمد مصطفی صلی لے لی ہم نے رمضان میں بہت زور دیا ہے کہ رمضان کا حق ادا کرو کیونکہ آپ صلی سیستم فرماتے ہیں کہ ایسا مہینہ پھر ہاتھ نہیں آئے گا۔جو بھی اس مہینہ میں کرگزرنا ہے نیکیوں کے لحاظ سے وہ کر گزرو۔جو کچھ تمہارے لئے ممکن ہے اختیار کرو۔یہ تھوڑے سے تو دن ہیں۔آیا ما مَعْدُودَتِ (البقرة: 185) رمضان بھی آیا ما مَعْدُودَت ہی ہیں، چند دن کی بات ہے، ان دنوں میں جو کچھ محنت ممکن ہے وہ کر لو لیکن اس محنت کا تعلق دل کے خلوص سے ہے۔اگر خلوص دل نہ ہو تو پھر یہ محنت بے کار ہے۔یہ مضمون ہے جس کو میں احادیث نبوی صلی الا یہ تم کے حوالہ سے آپ کے سامنے بیان کر رہا ہوں۔ایک حدیث یا غالباً بہت سی ایسی احادیث ہوں گی جن کو دہرایا جائے گا لیکن کوشش کر کے ایسی حدیثیں بھی ہم تلاش کر رہے ہیں جو پہلے دہرائی نہ گئی ہوں لیکن جود ہرائی جاتی ہیں جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا تھا بار بار کی نصیحت کا تقاضا ہے کہ وہ دہرائی جائیں اور ہر رمضان میں ایک نسل گزر جاتی ہے، ایک نئی نسل آجاتی ہے اس لئے ان کا بھی حق ہے کہ ان کے سامنے بھی وہ باتیں بار بار پیش کی جائیں۔روزہ آگ دور کرتا ہے۔ایک یہ حدیث ہے جو سنن الدارمی کتاب الجھاد سے لی گئی ہے۔حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی لے ہی ہم نے فرمایا کہ: "جو بندہ اللہ تعالیٰ کے رستہ میں اس کا فضل چاہتے ہوئے روزے رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرہ اور آگ کے مابین ستر خریف کا فاصلہ کر دیتا ہے۔“ (سنن الدارمی، کتاب الجهاد، باب من صام يوما فی سبیل الله عزّ وجل، حدیث نمبر : 2399) فضل چاہتے ہوئے روزے رکھتا ہے۔ابتغاء وجه اللہ کا یہ ترجمہ ہے۔فضل چاہتے ہوئے۔وجه الله کا اصل معنی تو ہے خدا کا چہرہ ، خدا کی توجہ، جو اپنی طرف خدا کی توجہ کرنے کی خاطر کہ اللہ تعالیٰ اس کی طرف پھر جائے ، تمام تر توجہ اس کی طرف مبذول ہو جائے جو اس نیت کے ساتھ روزے رکھتا ہے تو