خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 487
خطبات طاہر جلد 17 487 خطبہ جمعہ 17 جولائی 1998ء تو بخل سے بچنا جماعت احمدیہ کے لئے انتہائی ضروری ہے کیونکہ ہم نے دنیا میں زندہ رہنا ہے، خدا کے پیغام کو اگلی نسلوں میں جاری کرنا ہے اور صرف اس بیماری یعنی بخل کا شکار ہو گئے تو حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اسلم کا یہ فرمان ہم پر ضرور صادق آئے گا کہ پہلی قوموں کی طرح ہم ہلاک ہو جائیں گے۔پس رسول اللہ لی لی ایم نے یہ تفسیر یہاں بیان نہیں فرمائی مگر دوسری بہت سی احادیث میں، بخل کیوں قو میں ہلاک ہوا کرتی ہیں، یہ تفصیل بھی بیان فرمائی ہے۔مگر میں نے یہ مختصر حدیث جو جامع مانع ہے یہ آج کے خطبہ کے لئے چینی ہے۔ایک اور حدیث جو مسند احمد سے ہی لی گئی ہے حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی لا یہی ہم نے فرمایا: ر بخیل اور سخی کی مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جنہوں نے سینے تک لوہے کی قمیص پہنی ہے۔66 یہ بہت ہی لطیف مثال ہے اور اس کو پڑھ کر آدمی حیران رہ جاتا ہے۔آنحضرت سیتا پریتم کی حکمت اور فراست پر ، آپ صلی یا یہ تم پر بڑھ بڑھ کر درود بھیجنے کو دل چاہتا ہے۔کتنی عظیم الشان مثالیں دے کر دونوں کا مقابلہ فرمایا گیا ہے۔بظاہر ایک ہی کی سی مثال ہے شروع ایک بات سے ہوتی ہے وہ یہ کہ بخیل اور سخی کی مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جنہوں نے سینے تک لوہے کی قمیص پہنی ہوئی ہو۔بعض دفعہ زرہیں پہنی جاتی ہیں ان سے سینہ جکڑا جاتا ہے اور اس مضمون میں یہی بیان ہے کہ ایسی لوہے کی قمیصیں پہنی ہوئی ہیں جن میں سینے جکڑے جاتے ہیں سخی نے بھی پہنی ہوئی ہے، بخیل نے بھی پہنی ہوئی ہے مگر آگے جا کے ایک فرق پڑ جاتا ہے۔د سخی جب کچھ خرچ کرتا ہے تو اس کی آہنی قمیص کا حلقہ کھل جاتا ہے۔“ جب سخی خرچ کرتا ہے تو حلقہ تھوڑا سا ڈھیلا ہو جاتا ہے اور یہ اتنی گہری نفسیاتی حکمت ہے کہ اس پہ جتنا غور کریں اتنا ہی دل رسول اللہ صلی شمالی ستم کی تعریف میں ، ثناء میں ڈوب جاتا ہے۔ہر دفعہ جب ایک سا ایسے خرچ کی توفیق پاتا ہے جس سے پہلے اس کو کچھ تنگی محسوس ہورہی ہو تو لاز ما اس کے بعد اسی مضمون میں مزید خرچ کرنے کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔دنیا میں بھی یہی حال ہم دیکھتے ہیں اور دین میں بھی بالکل یہی حال ہے۔پس رسول اللہ صلی شما یہی تم فرماتے ہیں بظاہر دونوں نے قمیصیں پہنی ہوئی ہیں