خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 486
خطبات طاہر جلد 17 486 خطبہ جمعہ 17 جولائی 1998ء بھی وصول نہ کیا جائے۔اس فیصلہ کے بعد جب ان لوگوں کے چندہ پر میں نے نظر دوڑائی تو پتا لگا کہ وصول نہ کیا جائے کے حکم کی ضرورت ہی نہیں تھی ، چندہ دیتے ہی نہیں یہ خانہ ہی صفر ہے ان کا۔تو عجیب و غریب لوگ ہیں دنیا میں جن کو قرآن کریم کی آیات نے گھیرے میں لے رکھا ہے۔کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جو چندوں کے تعلق میں ہمیں دکھائی دیتا ہو یا نہ دکھائی دیتا ہو مگر قرآنی آیات نے اس مضمون کو اپنے اندر شامل نہ فرما لیا ہو۔پس ریا کا ر بھی ہیں وَالَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ رِئَاءَ النَّاسِ وہ لوگ جو اپنے اموال لوگوں کو دکھانے کی خاطر خرچ کرتے ہیں۔وَلا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وہ اللہ پر یا یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے۔ان کے متعلق بھی بہت سخت نتیجہ نکالا گیا ہے۔جس طرح پہلے فرمایا تھا وَ اعْتَدْنَا لِلكَفِرِينَ عَذَابًا مُّهِيناً ان کے متعلق فرما يا وَ مَنْ يَكُنِ الشَّيْطَنُ لَهُ قَرِينًا فَسَاءَ قَدِینا۔جن کا شیطان ساتھی بن جائے اس سے برا ساتھی کوئی نہیں ہوسکتا۔تو جن کا اٹھتے بیٹھتے شیطان ساتھی ہو ان کے اعمال کا کیا حال ہوگا۔کھو کھلے اور بے معنی ، ان کی کوئی بھی حقیقت خدا کی نظر میں نہیں ہے۔یہ دو باتیں بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا ذَا عَلَيْهِمْ لَوْ آمَنُوا بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَانْفَقُوا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللهُ وَكَانَ اللهُ بِهِمْ عَلِيمًا۔انہیں کیا ہو گیا ہے، ان پر کیا بپتا پڑی ہے ، وَ مَاذَا عَلَيْهِمْ کہ وہ اللہ پر ایمان نہیں لاتے۔لَوْ آمَنُوا بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ اگر وہ اللہ پر ایمان لے آتے اور آخرت پر ایمان لے آتے تو ان کو کیا نقصان پہنچنا تھا اور اسی طرح وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقَهُمُ الله۔اگر وہ خدا کی راہ میں خرچ کرتے اس میں سے جو اللہ نے ان کو خود عطا فرمایا ہے۔وہ چاہے ریاء کریں چاہیں چھپائیں وَ كَانَ اللهُ بِهِمْ عَلِيمًا۔یہ ان کو یا درکھنا چاہئے کہ اللہ ان سے خوب واقف ہے، ان کی ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔پس ان آیات کریمہ کے ساتھ یہ مضمون جو انفاق فی سبیل اللہ کا میں بیان کرتا چلا آیا ہوں میرے نزدیک مکمل ہو جاتا ہے۔اس سلسلہ میں چند احادیث نبویہ اور چند اقتباسات حضرت اقدس مسیح موعو علیہ الصلوۃ والسلام آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحہ 159 میں درج ہے عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی می ایستم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: الشح (یعنی) بخل سے بچو۔یہ بخل ہی ہے جس نے پہلی قوموں کو ہلاک کیا۔“ (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة، مسانید عبدالله بن عمر بن العاص ، مسند نمبر : 6487)