خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 481 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 481

خطبات طاہر جلد 17 481 خطبہ جمعہ 10 جولائی 1998ء کہ Suggestion کو اگر Repeat کیا جائے ، بار بار ایک بات کو اصرار کے ساتھ کہا جائے تو انسانی فطرت اس سے متاثر ہو کر اپنے دفاع کی طاقت کھو دیتی ہے اور واقعہ بہت گہری بیماریاں اس کے نتیجے میں پیدا ہو جاتی ہیں۔تو یہ جو میں اس وقت جماعت کو سمجھا رہا ہوں عورتوں کو خصوصیت کے ساتھ ، اس معاملہ کا صرف اس بچی سے تعلق نہیں ایک ایسی عادت سے تعلق ہے جس کا دُنیا کو بہت نقصان پہنچ چکا ہے اور آئندہ بھی اگر عورتوں نے اپنی اصلاح نہ کی تو یہ نقصان پہنچے گا۔تو اسی بہانے خدا تعالیٰ نے مجھے اس نصیحت کی بھی توفیق عطا فرما دی ہے۔میں اُمید رکھتا ہوں کہ احمدی خواتین جس جگہ کی بھی ہیں وہ اپنے دل کو اور اپنی نظروں کو سنبھال کر رکھیں گی۔بے ضرورت لوگوں کے معاملہ میں دخل اندازی نہیں کریں گی۔خواہ کتنا ہی دل میں جوش اٹھے وہ اپنے جوش کو دبا کے رکھیں گی۔اپنی فکر کریں،اپنے بچوں کی فکر کریں، اپنے میاں کی فکر کریں، اپنے عزیزوں کی فکر کریں وہ آپ کا حق ہے اور وہ بھی ضرورت سے زیادہ نہ کریں کیونکہ وہاں بھی اگر آپ نے ضرورت سے زیادہ فکر کیا تو اس کا نقصان پہنچے گا۔بعض ماؤں نے اپنے بچوں کو اس وجہ سے نقصان پہنچایا ہے کہ ان کی ہمدردی کی وجہ سے ان کی بیماریوں کو بہت بڑھا چڑھا کر سمجھا اور اس بچہ پر گویا یہ ظاہر کیا کہ تم اتنے بیمار ہو۔جب مجھے علم ہوا اور میں نے سختی سے اس بات سے روکا تو آپ حیران ہوں گے کہ وہ بچے بالکل ٹھیک ٹھاک ہو گئے، بداثر سے باہر نکل آئے۔تو جو باتیں میں عرض کر رہا ہوں ذاتی تجربہ کی بنا پر یقین کی وجہ سے عرض کر رہا ہوں اور اس کے بعد میں اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں یہ امید رکھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو میری نصائح پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے گا اور اب آپ کو یہ بات سمجھ آجائے گی کہ کیوں ایک ذاتی مسئلہ کو میں نے ایک خطبہ کا موضوع بنالیا۔خطبہ ثانیہ کے بعد حضور انور نے مزید فرمایا: مجھے بھی آپ اپنی ہمدردیوں سے محفوظ رکھیں۔نہ مجھے کسی خط کی ضرورت ہے اس موضوع پر ، نہ ملاقات کے دوران اس طرح دیکھیں یا ایسے لفظوں میں ذکر کریں گویا آپ کو بہت صدمہ پہنچا ہے اور بہت میری ہمدردی کر رہے ہیں۔یہ ہمدردیاں میرے لئے اذیت کا موجب ہوں گی فائدہ کا نہیں اور لغو ہوں گی کیونکہ اس کی وجہ سے میرے دل میں آپ کی محبت نہیں پیدا ہوگی بلکہ میں حیرت سے دیکھوں گا کہ آپ کو اتنی بھی عقل سمجھ نہیں ہے کہ ان باتوں کو ختم کر دینا چاہئے۔اس لئے اگر ملاقات