خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 480
خطبات طاہر جلد 17 480 خطبہ جمعہ 10 جولائی 1998ء اللہ تعالیٰ سے بہتر مغفرت کی توقع بھی نہیں رکھ سکتے۔اس لئے جہاں تک ہو سکے اپنے جذبات پر قابو رکھیں اور مغفرت کا سلوک کریں۔اور آنے والے جتنے بھی جلسہ پر ہیں اب وہ اس کے بعد ، اس نصیحت کو خاص طور پر پیش نظر رکھیں کہ ہر گزایسی چہ میگوئیاں نہ کریں جن کے نتیجے میں جگہ جگہ جواب دینے پڑ رہے ہوں۔میں ابھی سے بات کھول رہا ہوں اور عورتوں کی جو عادت ہے اس سے میں ڈر رہا ہوں۔عورتوں میں یہ بری عادت ہے کہ ہائے بے چاری وہ دیکھو طوبی بیٹھی ہوئی ہے، ہائے اس بیچاری کی شادی کامیاب نہیں ہوئی۔نہیں ہوئی تو بیچاری کیا ؟ اللہ کا فضل ہے جو نہیں ہوئی کیونکہ ہوسکتی نہیں تھی اور تمہارے رحم کی نہ صرف یہ کہ ضرورت نہیں بلکہ اس سے بچی کو تکلیف پہنچے گی۔جب بھی کسی نظر کو دیکھے گی کہ وہ یوں دیکھ رہی ہے او ہو یہ تو وہی ہے تو اتنا اس کا دل گھبرائے گا۔تو اگر آپ واقعہ مجھ سے محبت رکھتے ہیں اور اس بچی سے پیار رکھتے ہیں تو اس بات کو ایسے دل سے نکال دیں جیسے کوئی واقعہ ہی نہیں گزرا۔اس کو آزادی سے جلسہ منانے دیں، کھیلنے کودنے دیں، جہاں چاہے جائے ، جہاں چاہے پھرے جماعتی نظام کے تابع اور اس کو اس طرح نظر انداز کر دیں جیسے کوئی واقعہ ہے ہی نہیں۔بالکل تعجب کی کوئی نگاہ بھی اس پر نہ ڈالیں اس سے بڑا احسان آپ لوگ نہیں کر سکتے۔تو یہ وجہ بھی تھی کہ میں نے سوچا تھا کہ جلسہ سے پہلے یہ جماعت پر خوب وضاحت کردوں کیونکہ اب وہ دن آ رہے ہیں جن میں لوگوں نے جگہ جگہ سے آنا ہے، طرح طرح کی عورتیں آئیں گی جو اپنی عادات سے مجبور ہیں۔تو ان کو میں کہہ رہا ہوں اس عادت کا قلع قمع کریں۔یہ ویسے بھی اچھی عادت نہیں ہے۔ہمارے ملک کی عورتوں میں گندی عادت ہے کہ کسی کو کوئی بیماری لاحق ہو تو اس کو بھی اتنا بڑھا چڑھا کر دیکھتی اور بیان کرتی ہیں کہ وہ اگر بیمار نہیں بھی تھا تو ان کی بار بار کی تجویز سے کہ یہ بیماری ہو گئی ہوگی ،بعض دفعہ بیماری بن بھی جاتی ہے کیونکہ ہپنا ٹک (Hypnotic) اثر ہوتا ہے جس کو ہپنا ٹزم کہا جاتا ہے۔تو عورتوں میں یہ بیماری عام ہے۔یہ صرف اس شادی کی بات نہیں ہے ، ہر معاملے میں بے وجہ دخل دیتی ہیں اور سقراط حکیم بن جاتی ہیں۔مشورے بھی بے شمار جو غلط اور بیماری کا سمجھنا بھی غلط اور غلط سمجھنے کی وجہ سے جب وہ بار بار اسی کا ذکر کرتی ہیں تو ایسے لوگ جو فطرتی طور پر نسبتا کمزور ہوں ان پر ان کا اثر پڑ جاتا ہے۔چنانچہ میرے تجربہ میں ہے اور ہومیو پیتھک کتابوں میں بھی ہمارے بکثرت یہ بات لکھی ہوئی ہے