خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 479
خطبات طاہر جلد 17 479 خطبہ جمعہ 10 جولائی 1998ء خط و کتابت کے ذریعہ صرف پاکستان سے نہیں بلکہ دنیا بھر میں ان کے جتنے رشتہ دار ہیں وہ سارے مسلسل مجھے آخر وقت تک یقین دلانے کی کوشش کرتے رہے۔کیوں کر رہے تھے؟ ظاہر بات ہے کہ ان کو پتا تھا کہ میں ہرگز اس کا قائل نہیں ہوں اور ادھر بچی پر یہ اثر ڈالا جارہا تھا۔یہ وجوہات تھیں کہ جس کی وجہ سے مجھے دعاؤں کے ساتھ اس کو رخصت کرنے کی توفیق بھی ملی لیکن یہ بھی معلوم ہو گیا کہ جب اللہ تعالیٰ تقدیر ظاہر فرما چکا ہو تو ہر گز اس کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرنا چاہئے۔اگر کرو گے تو اس کی سزا پاؤ گے۔اس پس منظر میں اس بچی کا خیر و عافیت سے واپس گھر آ جانا یہ خوش خبری ہے یا بد خبر ہے؟ اور اللہ تعالیٰ کا ایسا انتظام کرنا کہ اس کو کسی ایسے بندھن میں نہیں باندھ دیا مثلاً بچہ بھی ہو سکتا تھا جس کے نتیجے میں اس کی باقی زندگی بے کار گزرتی۔تو یہ محض اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔وہ دعا ئیں جو تھیں ان کو اس رنگ میں اللہ نے قبول فرمالیا کہ اس کے بداثرات سے بچی کو بھی محفوظ رکھا اور مجھے بھی محفوظ رکھا حالانکہ یہ میری غلطی تھی۔تو اب آپ لوگ بے شک پرانی کیسٹ دیکھ لیں تب آپ کو سمجھ آئے گی کہ وہ ہو کیا رہا تھا۔ان دعاؤں میں عاجزی تو تھی مگر جان نہیں تھی۔ہو کیسے سکتی تھی ؟ میں نے بہت اونچی اونچی توقعات کے اظہار کئے۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ سارے ان توقعات کو پورا کرنے میں عمدا نا کام رہے۔نیتوں کا حال اللہ جانتا ہے مگر مجھے اتنا پتا ہے کہ اس ماں نے جس نے یہ رشتہ مانگا تھا، اس خالہ نے جس نے لمبے لمبے خط لکھے اور یقین دلایا کہ آپ بالکل بے فکر ہو جائیں یہ اپنا گھر ہو گا اس کا ، اس پر راج کرے گی۔ان باتوں کا یقین کر لینا میری کمزوری تھی ، یقین دلانے والوں کی نیت پہ میں حملہ نہیں کرتا۔اس لئے جماعت کو یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ان سے بے شک عام تعلقات میں اسی طرح سلوک کریں جیسے پہلے ہوا کرتے تھے کیونکہ اگر یہ جرم قرار دیا جائے جس کے نتیجہ میں ان کو سزاملنی چاہئے اور جماعت کو ان سے رخ پھیرنا چاہئے تو اس کا مطلب ہے کہ نیتوں پر حملہ ہے۔اس لئے نیتوں پر میں کوئی حملہ نہیں کر رہا۔اللہ بہتر جانتا ہے۔نیتوں کا حال اسی پر روشن ہے اور وہ اگر چاہے تو بد نیتوں کے باوجود معاف فرما سکتا ہے۔اس لئے میری التجا تو یہی ہے اور یہی جماعت سے بھی میری درخواست ہے کہ ان لوگوں کے لئے بھی مغفرت ہی کی دعا کریں۔ابھی جو مضمون گزرا ہے وہ مغفرت ہی کا تو مضمون تھا۔تو اگر وہ مضمون ہم سمجھ نہ سکیں اور اپنے معاملات میں اس کا اطلاق نہ کریں تو پھر