خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 474 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 474

خطبات طاہر جلد 17 474 خطبہ جمعہ 10 جولائی 1998ء کھو دیتا ہے“ کا لفظ کچھ غور طلب ہے مگر مراد اس سے یہی ہے کہ اس جڑ کا کوئی نام ونشان بھی نہیں رہنے دیتا۔کھو دیتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس کا کچھ بھی باقی نہیں رکھتا۔وہ کون سی جڑ ہے عجب اور تکبر کی جڑ جیسا کہ فرمایا: کہ وہ کچھ چیز ہے اور عجب اور تکبر اور خود نمائی کی عادتوں کا استیصال کرتا ہے۔“ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحه : 415) تو یہ حکمت ہے خدا تعالیٰ کی بخشش کی اور گناہوں کے بار بار پیدا ہونے اور بار باران کو جڑوں سے اکھیڑ نے کی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: تم خدا سے صلح کر لو۔وہ نہایت درجہ کریم ہے ایک دم کے گداز کرنے والی تو بہ سے ستر برس کے گناہ بخش سکتا ہے۔“ بہت ہی عظیم خوشخبری ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم عاجز بندوں کو دے رہے ہیں۔جو قرآن اور احادیث میں جو معرفتیں بیان ہوئی ہیں ان کا خلاصہ ہے۔ایک دم کے گداز کرنے والی تو بہ سے ستر برس کے گناہ بخش سکتا ہے۔“ گداز کرنے والی تو بہ کیا چیز ہے؟ گداز کرنے والی تو بہ سے مراد ہے جو پگھلا دے۔دل میں ایسی ندامت کی آگ بھڑک اٹھے کہ اس کے اثر سے سب گناہ پگھل جائیں اور ان کی کوئی بھی حیثیت باقی نہ رہے۔یہ ایسے موقعے آسکتے ہیں انسانی زندگی پر۔صرف ہمیں دعا یہ کرنی چاہئے کہ ہمارے مرنے سے پہلے پہلے یہ موقع نصیب ہو جائے۔ستر برس کے گناہ بخشنے میں یہی مضمون بیان فرمایا گیا ہے کہ ساری عمر بھی اگر تم گناہ کرتے رہو اور سچی توبہ نصیب نہ ہو تو موت سے پہلے ممکن ہے اور موت سے پہلے ممکن تب ہی ہو سکتا ہے اگر اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔مارنا اُسی نے ہے۔وہ مارے نہیں جب تک کہ انسان کو سچی توبہ کی توفیق عطانہ فرما دے۔یہ وہ خوشخبری بھی ہے اور تنبیہ بھی ہے جس کو ہمیں ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔ایسا اگر ہو جائے ، وہ لمحہ مرنے سے پہلے نصیب ہو جائے کہ ستر برس کے گناہوں کو جو پگھلا کر خاک بنادے، خاکستر کر دے تو اس سے بہتر اور کون سی خوش نصیبی ہے جو انسان کو عطا ہو سکے۔اور یہ مت کہو کہ تو بہ منظور نہیں ہوتی۔( یہ خیال جھوٹا، بے کار، بے معنی ہے کہ تو بہ منظور نہیں ہوتی ) یا درکھو کہ تم اپنے اعمال سے کبھی بچ نہیں سکتے۔“