خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 473 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 473

خطبات طاہر جلد 17 473 خطبہ جمعہ 10 جولائی 1998ء سکتا ہے بلکہ بعض دفعہ ضرورت سے زیادہ نرمی بھی دکھا دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے اندر ضرورت سے زیادہ کوئی صفت بھی موجود نہیں اور انسان اپنی کمزوری کی وجہ سے بخشنے میں ضرورت سے آگے بڑھ جاتا ہے۔تو یہ بخش اس کو ملی کہاں سے ہے؟ اس کی فطرت میں کیسے ودیعت ہوئی ؟ اگر خالق کی فطرت میں نہیں تھی تو بندے کو بخشنے کی استطاعت ہونی ہی نہیں چاہئے تھی۔یہ مضبوط دلیل تھی جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلام کی مدافعانہ تلوار کے طور پر نیام سے ننگا کیا اور تمام عمر اسلام کے دشمنوں کو اسی تلوار سے کاٹا ہے۔بخشش لازماً خدا کی صفت ہے ورنہ بندے کو عطا نہیں ہوسکتی تھی۔”جو گناہ بخشنے کا خلق اس میں موجود ہے خلق یہ ہے۔”اس کے ظاہر کرنے کے لئے ایک موقع نکالا جائے۔اب سوال یہ ہے کہ اسے ظاہر کرنے کے لئے موقع کیوں نکالا جائے۔اس لئے بندوں کو گنہگار کیا جائے تا کہ یہ خلق ظاہر ہو؟ یہ بھی ایک الگ مسئلہ ہے۔دراصل جو خلق ہے یہ ایک طبعی صفت ہوا کرتی ہے جو از خود پھوٹتی ہے۔جیسے پھول کا رنگ دکھائی دیتا ہے۔اس کی خوشبو پھوٹتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفات کا پھوٹنا ایک طبعی امر تھا لیکن یہ جو فرمایا کہ اس کے ظاہر کرنے کا ایک موقع نکالا جائے یہ اس لئے کہ بندہ جو گناہ کر سکتا ہے اللہ نہیں کر سکتا، اس کے گناہ کو بخشنے کی خاطر خدا کا یہ خلق بطور خاص ظاہر ہو اور موقع یہ ہو کہ جب انسان گناہ میں مبتلا ہو کر دیکھے کہ میرے خدا نے مجھے بخشا ہے تو اس کے اندر جو بخشش کا جذبہ ہے وہ اور زیادہ چمکے۔یہ مقصد ہے جس کی بنا پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرمایا: دو گناہ بے شک ایک زہر ہے مگر تو بہ اور استغفار کی آگ اس کو تریاق بنا دیتی ہے۔“ اب جتنے زہر ہیں انہی سے تریاق بنتے ہیں۔ان کو جب طبیب آگ میں جلاتا ہے تو اس کا زہریلا مادہ مرجاتا ہے اور اس کے اندر سے ایک نئی صفت ظاہر ہوتی ہے جو اسی زہر کا تریاق بن جاتی ہے۔پس یہی گناہ تو بہ اور پشیمانی کے بعد ترقیات کا موجب ہو جاتا ہے۔(اب جس کے اندر یہ گناہ تریاق بن چکا ہو اسی تریاق سے وہ دوسروں کو بھی فائدہ پہنچا سکتا ہے ) تو بہ اور پشیمانی کے بعد ترقیات کا موجب ہو جاتا ہے اور اس جڑ کو انسان کے اندر سے کھو دیتا ہے کہ وہ کچھ چیز ہے۔“