خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 469
خطبات طاہر جلد 17 469 خطبہ جمعہ 10 جولائی 1998ء حسن ظن رکھتے ہیں تو حسن ظن رکھ کر دیکھیں تو سہی کہ اللہ تعالیٰ اس حسن ظن کے نتیجہ میں ان سے کیا حسن سلوک فرماتا ہے۔میں اپنے بندے سے اس کے حسن ظن کے مطابق سلوک کرتا ہوں جو وہ میرے متعلق رکھتا ہے۔جہاں بھی وہ میرا ذکر کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔” خدا کی قسم یہ رسول اللہ صلی یا پریتم کا فقرہ ہے۔” خدا کی قسم اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اتنا خوش ہوتا ہے کہ اتنا خوش وہ شخص بھی نہیں ہوتا جسے جنگل بیابان میں اپنی گمشدہ اونٹنی مل جائے۔“ یہ ہے اللہ کی توقع آپ سے۔اندازہ کریں کہ اللہ تعالیٰ اس طرح خوش ہوتا ہے جیسے وہ محتاج انسان جس کی اونٹنی اس سے کھو گئی ہو جنگل بیابان ہو اور کوئی سہارا نہ ہو اور وہ اسے مل جائے۔اللہ کو کوئی احتیاج نہیں اس کے باوجود اپنے بندوں کی توبہ سے اور ان کے واپس آنے پر اتنا راضی ہوتا ہے۔فرمایا: جو شخص مجھ سے بالشت بھر قریب ہوتا ہے میں اس سے گز بھر قریب ہوتا ہوں۔اگر وہ مجھ سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں اور جب وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔“ (صحیح مسلم، کتاب التوبة باب فى الحض على التوبة والفرح بھا۔۔۔۔حدیث نمبر :6952) کیا جماعت احمد یہ اپنے رب پر یہ حسن ظن نہ رکھے کہ خدا اس کی طرف دوڑتا ہوا چلا آئے اور آئندہ صدیاں یہی نظارہ دیکھنا چاہتی ہیں کہ جب خدا جماعت کی طرف دوڑتا ہوا چلا آ رہا ہو، جب اللہ دوڑ کر آئے گا تو دنیا کی کیا مجال ہے کہ جماعت احمدیہ کو نظر انداز کر دے۔جس طرف خدا دوڑتا ہوا جائے گا ساری کائنات اسی طرف دوڑے گی تمام دنیا کے دل اس طرف مائل کئے جائیں گے۔ایک آندھی چل پڑے گی جماعت احمدیہ کے حق میں اور اس کی تائید میں کیونکہ آسمان سے اللہ کی توجہ اس طرف ہوگی۔تو یہ ساری باتیں بظاہر چھوٹی چھوٹی پیسے کی باتیں تھیں جن سے بات شروع ہوئی تھی مگر اب آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ ہر گز محض پیسے کی بات نہیں اگلے زمانوں کی ضرورتیں ہیں جنہیں ہم نے بہر حال پورا کرنا ہے اور یہ چھوٹے چھوٹے مسائل ان ضرورتوں کاحل ہیں یعنی مسائل تو ہیں مگر ان پر اگر توجہ سے غور کر کے ان کا حل تجویز کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ آئندہ زمانہ کی ضرورتوں کا حل بن جائیں گے۔