خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 459
خطبات طاہر جلد 17 459 خطبہ جمعہ 3 جولائی 1998ء امام مانا ہے جن کا اولاد کے متعلق یہ نظریہ تھا۔ گریہ وزاری کرتے ہیں کاش میں ان پر محبت کی نظر ڈال سکوں جب میں واپس ہو رہا ہوں ۔ اور خدا گواہ ہے کہ جب وہ واپس ہوئے ہیں تو انتہائی نیک اولاد پیچھے چھوڑ کر گئے تھے ، ہر پہلو سے خدمت دین کرنے والی ۔ بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اسی رنگ میں اونچے ہوئے ہیں اسی رنگ میں لہلہاتے رہے ہیں ۔ وہ لہلہاتے تو تھے پر ان میں زردی کبھی نہیں آئی۔ وہ چھورا نہیں بنے کہ پھر مٹی میں مل جائیں ۔ ان میں سے ہر ایک کے متعلق ہم گواہ ہیں کہ جب تک وہ زندہ رہا اپنی طرف سے انتہائی کوشش کرتا رہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ دین کا علم بردار بنے ، دین کی خدمت کرنے والا بنے۔ کوئی ایسا بچہ پیدا ہو جائے جو اعلاء کلمۃ الاسلام کا ذریعہ ہو۔ جب ایسی پاک خواہش ہو تو اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ زکریا کی طرح اولا د دے دے۔“ اب ایک اور بات بڑی عظیم فرمائی گئی ہے۔ بہت سے لوگوں نے اولاد کے لئے دعاؤں کی درخواست کی لیکن ان کی درخواست میں غالباً کوئی ملونی نفس کی ہوتی ہوگی کہ وہ اپنی اولاد کو اس لئے دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ ان کے دل کی تسکین کا موجب بنے ۔ خواہ نیک ہو یا بد ہومگر دل کی تسکین کا موجب بنے مگر حضرت زکریا کی دعا اور تھی ۔ حضرت زکریا کے بال سفید ہو چکے تھے قرآن کریم کی رو سے شعلہ کی طرح سر بھڑک اٹھا تھا اتنی سفیدی آچکی تھی اور وہ عرض کرتے ہیں کہ میری ہڈیوں میں جان تک باقی نہیں رہی۔ ہڈیاں گل گئی ہیں لیکن یہ عرض کرتے ہیں کہ اے خدا میں تیری رحمت سے مایوس نہیں ہو سکتا۔ فرمایا ایسی دعا کرو تو پھر زکریا کی طرح تمہیں بھی اولا د نصیب ہو گی پھر تمہیں یحیی ملے گا۔ اگر ایسی دعا ئیں نہیں کرتے یہ دل کی گہری تمنا نہیں ہے تو پھر دنیا میں ایسی اولاد چھوڑ جاؤ گے جس کا کوئی بھی فائدہ نہیں ۔ تم چلے جاؤ گے اور اس کے بعد ان پر کیا بنے گی یا مرنے کے بعد تم پر کیا بنے گی اس کی تمہیں کوئی ہوش نہیں ہے۔ ایک چھوٹے سے فقرہ میں دیکھیں کیسی پیاری بات فرمادی ۔ فرمایا: کوئی ایسا بچہ پیدا ہو جائے جو اعلاء کلمۃ الاسلام کا ذریعہ ہو۔ جب ایسی پاک خواہش ہو تو اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ زکریا کی طرح اولا د دے دے۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ لوگوں کی نظر اس سے آگے نہیں جاتی کہ ہمارا باغ ہے اور ملک ہے وہ اس کا وارث ہو۔ اور کوئی شریک اس کو نہ لے جائے۔ مگر وہ اتنا نہیں سوچتے کہ کم بخت جب تو مر گیا تو تیرے لئے دوست دشمن ، اپنے بیگانے سب برابر ہیں ۔“ 66