خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 458
خطبات طاہر جلد 17 پھر فرماتے ہیں: 458 خطبہ جمعہ 3 جولائی 1998ء میں دیکھتا ہوں کہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ محض دنیا کے لئے کرتے ہیں۔“ یہ کوئی نئی بیماری نہیں ہے یہ فطرت کی بیماری ہے جو بڑی دیر سے چلی آرہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی جو بڑے بڑے خدمت کرنے والے اور جان فدا کرنے والے اور دین کی راہوں میں دوڑ دوڑ کر چلنے والے صحابہ موجود تھے ان میں بھی ایسے لوگ تھے۔میں دیکھتا ہوں کہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ محض دُنیا کے لئے کرتے ہیں ، محبت دُنیا ان سے کراتی ہے۔خدا کے واسطے نہیں کرتے اگر اولاد کی خواہش کرے تو اس نیت سے کرے وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا (الفرقان: 75) پر نظر کر کے ( یہ دعا ) کرے کہ کوئی ایسا بچہ پیدا ہو جائے جو اعلاء کلمتہ الاسلام کا ذریعہ ہو۔“ اب آپ فرماتے ہیں ایک بچہ کوئی پیدا ہو جائے جو آگے دین کا نام بلند کرنے والا ہو ، دین کا کلمہ بلند کرنے والا ہو۔اس خواہش کے ساتھ وہ اولاد کی جو خدمت کریں وہ سچی خدمت ہے باقی سب جھوٹ ہے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنا حال دیکھ لیں۔کتنی دعائیں کی ہیں مصلح موعود کی پیدائش سے پہلے، ہر بچے کے لئے دعائیں کی ہیں، اتنی کوشش کی بچپن سے ہی ، دین کے سوا اُن کی کوئی نظر برداشت نہیں کی۔بہت تفصیلی واقعات ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ دین کے معاملہ میں اپنے بچوں سے آپ نے کوئی نرمی نہیں کی یعنی نرمی کے باوجود آپ کی طرز میں ایک تلخی آجایا کرتی تھی جب دیکھتے تھے کہ دین کے معاملہ میں کوئی ہلکی بات کر رہا ہے اور وہ تلخی بظاہر جسمانی سختی نہ ہونے کے باوجود جسمانی سختی سے بہت زیادہ کام کرتی تھی۔اب یہ سب کچھ اپنی جگہ، بے انتہا دعا ئیں ، اولاد کے پیدا ہونے سے پہلے دعائیں، ان کے پیدا ہونے کے بعد مسلسل ان پر نظر اور یہ عرض کہ : یہ ہو میں دیکھ لوں تقویٰ سبھی کا جب آوے وقت میری واپسی کا ( مجموعه آمین صفحه : 9) کتنی عاجزانہ دعا ہے۔ان سب کوششوں کے باوجود انحصار نہیں ہے۔جانتے ہیں کہ میں ایک عاجز بندہ ہوں جب تک اللہ قبول نہیں کرے گا مجھے یہ نصیب نہیں ہوگا کہ جاتی دفعہ میں پیارا ور محبت کی نظر ڈالوں۔میں دیکھوں کہ میری اولا د وہ بن گئی ہے جو عمر بھر میں بنانا چاہتا تھا۔آپ کیوں اس مثال کو نہیں پکڑتے۔دیکھتے نہیں کس کو اپنا امام مانا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنا