خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 457
خطبات طاہر جلد 17 457 خطبہ جمعہ 3 جولائی 1998ء قابو ہی میں نہیں ہے۔میں نے کہا یہ بالکل جھوٹ بول رہے ہیں آپ۔بچپن سے آپ اپنے قابو میں نہیں ہیں۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اولاد سے سچا پیار ہو اور انسان انہیں کھینچ کے سینے سے لگائے اور پھر بجائے دنیا داری کے ان کی نیکی کا لحاظ ر کھے اور وہ اچانک بے راہ رو ہو جائے۔یہ نہیں ہوا کرتا۔اولاد آنکھوں کے سامنے بگڑ ا کرتی ہے۔جن لوگوں کو احساس نہ ہو وہ آنکھیں بند رکھتے ہیں اس لئے کہ ان کی دنیا داری سے خوش ہورہے ہوتے ہیں اور دین کی کوئی حقیقی پرواہ نہیں ہوتی۔مجھے دعا کے لئے کہہ رہے تھے کہ دعا کرو۔میں نے کہا انا للہ وانا الیهِ رَاجِعُونَ۔آپ کے زندگی بھر کے عمل کے خلاف میری دعا کیا کرے گی۔مجھے ان سے ہمدردی تو ہے ، تکلیف تو ہے مگر آپ کا عمل میری دعا کو جھٹلا رہا ہے۔میں دعا کروں گا اللہ تعالیٰ ان کو ٹھیک کر دے آپ کا عمل پکار پکار کے کہہ رہا ہے کہ اے خدا بالکل نہیں ٹھیک کرنا۔ہمیں ایسی ہی تربیت چاہئے تھی جو ہم نے کر دی ہے۔تو ایسے معاملات اور بھی ہیں جو وقتاً فوقتاً میرے سامنے آتے رہتے ہیں مگر آئندہ سے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جن کے متعلق جماعت کو علم ہو وہ ان کی ملاقات ہی کروانی چھوڑ دیں۔یہ نفس کا دھوکا ہے جو وہ دیتے ہیں اور مجھے اس سے اور بھی تکلیف پہنچتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: "وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اما ما کا لحاظ ہو۔یہ لحاظ رکھو کہ جن کو پیچھے چھوڑ کے جار ہے ہو وہ متقی ہوں اور خدا کے حضور تم متقیوں کے امام لکھے جاؤ۔فرماتے ہیں: اولا د دین کی خادم ہو۔( یہ لحاظ ہو ) لیکن کتنے ہیں جو اولاد کے واسطے یہ دعا کرتے ہیں کہ اولا د دین کی پہلوان ہو۔بہت ہی تھوڑے ہوں گے جو ایسا کرتے ہوں۔اکثر تو ایسے ہیں کہ وہ بالکل بے خبر ہیں کہ وہ کیوں اولاد کے لئے یہ کوششیں کرتے ہیں اور اکثر ہیں جو محض جانشین بنانے کے واسطے ( ایسا کرتے ہیں ) اور کوئی غرض ہوتی ہی نہیں۔صرف یہ خواہش ہوتی ہے کہ کوئی شریک یا غیر ان کی جائیداد کا مالک نہ بن جاوے مگر یا درکھو کہ اس طرح پر دین بالکل برباد ہو جاتا ہے۔غرض اولاد کے واسطے صرف یہ خواہش ہو کہ وہ دین کی خادم ہو۔“ الحکم جلد 8 نمبر 8 صفحہ: 6،مؤرخہ 10 مارچ 1904ء)