خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 456 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 456

خطبات طاہر جلد 17 456 خطبہ جمعہ 3 جولائی 1998ء - آنحضرت سلایا کہ تم نے دنیا کی کمائی اور ورثہ کو شمار ہی نہیں فرمایا۔فرمایا اس طرح رحم کرو جیسے تم خدا کے حضور یہ کہہ سکو کہ اے اللہ ! میرے ماں باپ پر بھی رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں مجھ پر رحم فرما یا تھا۔اگر انہوں نے دین سے ہٹایا ہوتا تو یہ دعا ہو ہی نہیں سکتی تھی کہ میرے ماں باپ پر اس طرح رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں مجھ پر رحم فرمایا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں نہ کہ جانشین بنانے کے واسطے۔اولاد سے عزت کا سلوک اور نرمی کا سلوک کرو اور رحم کا سلوک کرو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ رحم کی توقع رکھتا ہے۔نہ کہ جانشین بنانے کے واسطے۔‘ اپنا جانشین بنانے کے لئے جو تم ان سے حسن سلوک کرتے ہو بظاہر وہ ان کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔فرمایا: بلکہ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِمَامًا (الفرقان : 75) کا لحاظ ہو۔“ پیش نظر یہ بات ہو کہ میں متقیوں کا امام ہوں۔اب ظاہر بات ہے کہ بچوں کو بچپن ہی سے تقویٰ کی تعلیم دی جائے گی تو یہ امید کی جاسکتی ہے کہ آپ متقیوں کے امام بنیں گے۔اگر بچپن سے ہی ان کی ایسی باتوں سے روگردانی کی جاتی ہے جو نظر آ رہی ہیں کہ ان کو دین سے دور لے جا رہی ہیں تو پھر وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِمَامًا کی دعا بالکل جھوٹی اور بے معنی ہو جاتی ہے۔ملاقاتوں کے دوران مجھے اس کا بھی بہت تلخ تجربہ ہوا۔بعض بچے، بعض بچیاں ایسے نظر آئے جن کی آنکھوں میں ذرہ بھی دین کی پرواہ نہیں تھی۔ان کی آنکھیں بول رہی تھیں بعض ایسی بچیاں بھی دیکھیں جنہوں نے دوپٹوں سے اپنے سر ڈھانکے ہوئے تھے لیکن ان کا سر ڈھانکنا بتا رہا تھا کہ آج پہلی دفعہ سر ڈھانکا گیا ہے یعنی روز جب وہ خدا کے حضور چلتے پھرتے تھے تو اس وقت سر ڈھانکنے کا کوئی خیال نہیں آیا ، جب وہ میرے سامنے پیش ہوئے ہیں تو سر ڈھانک کے آئے۔ایسی صورت میں میری تکلیف میں دگنا اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ مجھے لگا کہ نعوذ باللہ من ذلک یہ میرا شرک کر رہے ہیں۔جس خدا سے ڈرنا چاہئے اس سے ڈرتے نہیں اور میں ایک عاجز حقیر بندہ جس کی کوئی بھی حیثیت نہیں اس کے سامنے بن سنور کر آتے ہیں اور دکھانا چاہتے ہیں کہ ہم نیک ہیں۔نیک ہیں تو جس کو دکھانا ہے اس کو دکھا ئیں۔وہ خدا ہے جو ہر حال میں آپ پر نظر رکھتا ہے۔اگر اس کو نہیں دکھانا تو یہ کسی نیکی ہے؟ اس نیکی میں آپ شرک کی تلخی گھول رہے ہیں۔جس کو آپ نیکی سمجھ رہے ہیں، ہے تو بدی لیکن اس میں شرک کی تلخی بھی گھل جاتی ہے۔چنانچہ جب میں نے چھان بین کی تو ان ماں باپ نے اقرار کیا کہ یہ تو بچپن سے ہمارے