خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 454 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 454

خطبات طاہر جلد 17 454 خطبہ جمعہ 3 جولائی 1998ء تو فرمایا لا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ ویسے ہی بے وقوفی ہے غربت کے ڈر سے اولا دیں قتل کرو گے تو اور بھی غریب ہو جاؤ گے اور جیسا کہ میں مثال دینے لگا تھا چین کی مثال ہے۔غربت کے ڈر سے قانون بنائے، اولا دیں قتل کرتے لیکن اس کا کوئی بھی فائدہ چینی اقتصادیات کو نہیں پہنچا۔یہ ایک تفصیلی مضمون ہے میں نے بہت گہرا جائزہ لیا ہے املاق کی وجہ سے اولا دیں کم کرنے کا کوئی بھی فائدہ ان کو نہیں پہنچا بلکہ غریب لوگوں نے قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے زیادہ بچے اس غرض سے پیدا کئے۔چنانچہ بعض چینی خاندانوں میں سات سات، آٹھ آٹھ ، دس دس بچے ہیں کہ وہ جانتے تھے کہ اس سے ہماری غربت دور ہوگی اور بچپن سے ہی ان کو کاموں پر لگا یا اس کے نتیجے میں خاندان کی مجموعی طاقت، دولت میں اضافہ ہو گیا لیکن اللہ فرماتا ہے نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُم رزق تو ہم دیتے ہیں ان کو بھی اور تمہیں بھی اس لئے کسی گمان میں بیٹھے ہو کہ رزق تمہاری چالاکیوں کی کمائی ہے۔اللہ ہی ہے جب وہ فیصلہ فرماتا ہے کسی کو رزق دینے کا تو رزق دیتا ہے اور جب نہیں فیصلہ فرماتا تو رزق نہیں دیتا۔اِنَّ قَتْلَهُم كَانَ خِطأً كَبِيرًا۔خدا کے نزدیک ایسے بچوں کا قتل بہت بڑا گناہ ہے لیکن اس قتل سے مراد کچھ اور بھی ہے۔ایسے بچوں کا روحانی قتل بھی اسی آیت میں مراد ہے۔چنانچہ احادیث نبوی میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں اس سے سمجھ آئے گی کہ اصل قتل ، اولا د کا روحانی قتل ہوا کرتا ہے اور یقتل ہے جو یہاں عام جاری ہے۔بڑی کثرت سے میں دیکھ رہا ہوں کہ لوگ اپنی اولادوں کو قتل کر رہے ہیں اور اس کی پرواہ نہیں کرتے۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، الادب المفرد بخاری میں، آپ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی ا سلم نے فرمایا: ابرار کو اللہ تعالیٰ نے ابرار اس لئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے والدین اور بچوں کے ساتھ حسن سلوک کیا جس طرح تم پر تمہارے والد کا حق ہے اسی طرح تم پر تمہارے بچے کا بھی حق ہے۔الادب المفرد لامام بخاری، باب بڑ الأب لولده ، حدیث نمبر : 94) اس حق کو نہ بھولیں آپ۔آپ کے بچوں کا آپ پر گہر احق ہے اور اس حق کو کیسے ادا کرنا ہے اس کا ذکر آگے میں بعض احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات کے حوالے سے آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔حضرت انس بن مالک سے مروی ہے، یہ ابن ماجہ ابواب الأدب سے حدیث لی گئی ہے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت سالی یہ تم نے فرمایا: