خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 453 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 453

خطبات طاہر جلد 17 453 خطبہ جمعہ 3 جولائی 1998ء الخسِرُونَ (المنافقون:10) اے مومنو! تمہیں تمہارے مال اور تمہاری اولادیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں۔اکثر خدا کے ذکر سے غافل ہونے والے لوگ وہ ہیں جن کو اپنی اولاد کی اور مال کی محبت خدا سے غافل کر دیا کرتی ہے اور جن کا نقشہ میں پہلے کھینچ چکا ہوں بعینہ وہی ہیں۔مال کی محبت اور اولاد کی محبت ایسا چڑھ جاتی ہے دماغ پر کہ کسی اور چیز کی ہوش نہیں رہنے دیتی۔ایسے لوگ خدا کا ذکر کر ہی نہیں سکتے۔ایسے لوگ فرضی طور پر سرسری طور پر خدا کا ذکر کریں بھی تو وہ ذکر دل میں ڈوبتا نہیں ہے اور دلوں کی کیفیت کو تبدیل نہیں کرتا۔وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُولَبِكَ هُمُ الْخَسِرُونَ جو بھی ایسا کرے گا وہی لوگ ہیں جو بہت گھاٹا کھانے والے ہوں گے۔تو قرآن نے تو کوئی گنجائش نہیں چھوڑی بچ نکلنے کی کہ انسان عذروں کی تلاش کر کے کہیں نہ کہیں اپنا منہ چھپا سکے۔قرآن کریم نے انسانی فطرت کے ہر پہلو کو اجاگر کر دیا ہے ،مضمون کے ہر حصہ کو کھول کر بیان کر دیا ہے جیسا کہ فرمایا : وَ لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ اِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ إِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُم كَانَ خِطاً كبيرا۔(بنی اسرائیل : 32) اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو۔اب یہ بہت غور طلب آیت ہے اس پہلو سے کہ عرب اپنی اولا د کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہیں کیا کرتے تھے۔اس زمانہ میں یہ دستور نہیں تھا۔اگر قتل کرتے تھے تو لڑکیوں کو قتل کیا کرتے تھے اور وہ بے عزتی کے ڈر سے قتل کیا کرتے تھے مگر سارے عرب میں کہیں آپ کو یہ رواج نہیں دکھائی دے گا کہ مفلسی کے ڈر سے اپنی اولا د کو قتل کرتے ہوں۔یہ دراصل آئندہ زمانے کی ایک پیشگوئی ہے جسے ہم پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔بہت سے ایسے خاندان میں نے دیکھے ہیں جو باوجود اس کے کہ اپنی اولاد کی عظمت چاہتے ہیں، اس کی بڑائی چاہتے ہیں مگر زیادہ بچے نہیں چاہتے تا کہ جائیدادزیادہ لوگوں میں تقسیم نہ ہو اور تھوڑے رہیں اور پھر صاحب دولت ہوں۔یہ وہ فطرت انسانی ہے جس کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے۔لا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ اولاد بننے کے بعد ان کو قتل نہیں کیا جاتا ، احتیاطیں برتی جاتی ہیں جیسے آج کل فیملی پلاننگ ہے اور فیملی پلاننگ میں خَشْيَةَ امْلاق ایک ضروری پہلو ہے۔تمام دنیا میں یہ تو میں غریبوں کو یہ نصیحت کرتی ہیں کہ اولاد کم پیدا کرو تا کہ تمہاری غربت دور ہو اور یہ جھوٹ ہے کیونکہ غریبوں کی اولا دزیادہ ہو تو غربت دور ہوا کرتی ہے۔کہیں دنیا میں غریبوں کی اولاد ان پر بوجھ نہیں بنا کرتی وہ تو اپنے ماں باپ کا سہارا بنتی ہے۔