خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 34 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 34

خطبات طاہر جلد 17 34 خطبہ جمعہ 9 جنوری 1998ء 66 اس لئے میں بے قابو ہو رہا ہوں جذبات سے کہ یہ فقرہ : جس نے خدا تعالیٰ کی خاطر اپنا یہ حال بنا رکھا ہے۔“ یہ فقرہ حضرت محمد رسول اللہ صلی السلام کی یاد کو دل میں تازہ کرتا ہے اور کھول کے اس روزہ دار کو سامنے لے آتا ہے جس کے مقدر میں دو خوشیاں ہیں ۔ لازماً ایسا روزہ دار جب خدا کے رزق پر روزہ کھولتا ہے اور پانی پیتا ہے تو اس کے دل کی کیفیت ، اس کے جسم کی کیفیت ایسی ہوتی ہے کہ دنیا دار اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتا اور پھر ہر روز اللہ سے وہ ملاقات کرتا ہے اور روزہ کی جزا ساری اس کو عطا ہوتی ہے ساری فرحتیں عطا کی جاتی ہیں ، ساری پاکیز گیاں عطا کی جاتی ہیں۔ یہ وہ مضمون ہے جو اس حدیث نے ہمارے سامنے کھول کے رکھا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ کم لوگوں کو خیال آتا ہے کہ یہ اول طور پر آنحضرت صلیه السلام کا خود اپنے متعلق بیان ہے۔ اب صحیح البخارى كِتَابُ الصَّوْمِ بَابُ : الرَّيَّانُ للصائمین سے حدیث لی گئی ہے۔ حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی لا السلام نے فرمایا: وو جنت میں ایک دروازہ ہے جس کو ریان کہتے ہیں قیامت کے دن روزہ دار اس سے داخل ہوں گے اور ان کے سوا کوئی اس میں داخل نہیں ہوگا۔ پوچھا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہیں تو وہ کھڑے ہو جائیں گے ان کے سوا کوئی اس میں سے داخل نہیں ہوگا اور جب وہ داخل ہو جائیں گے تو وہ بند کر دیا جائے گا اور پھر کوئی اس سے جنت میں داخل نہ ہوگا ۔“ (صحيح البخاری، کتاب الصوم، باب الريان للصائمين، حدیث نمبر : 1896) لیکن دوسری احاد دوسری احادیث سے ثابت ہے کہ جنت جنت کے سات دروازے ہیں ساتوں سب خدا کے ان بندوں کے لئے کھلے ہیں جو ان دروازوں سے جنت میں داخل ہونے کا حق رکھتے ہیں اور اس موضوع کی اور بھی احادیث ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ جنت میں داخل ہونے کے بہت سے رستے ہیں جن کے ذریعہ سے مومن ضروران رستوں سے داخل ہوگا اس لئے ان احادیث کو ظاہر پر محمول نہ کریں۔ یہ نہ سمجھیں کہ ایک گیٹ سے داخل ہو کر پھر دوسرے گیٹ سے نکل آتا ہے۔ پھر دوسرے گیٹ سے داخل ہوتا ہے پھر نکل آتا ہے۔ پھر تیسرے گیٹ سے داخل ہوتا ہے۔ یہ ظاہر پرستوں کی لغویات ہیں۔ آنحضرت صلی الله ای ام جس کا ذکر فرما رہے ہیں ان کو آپ اس طرح سمجھ لیں کہ سارے دروازے ایک گیٹ کی شکل میں رونما ہو جاتے ہیں۔ ہر نیکی کا دروازہ جس میں سے مومن کو داخل ہونا چاہئے وہ جس