خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 443
خطبات طاہر جلد 17 443 خطبہ جمعہ 26 جون 1998ء جس طرح آپ سیتی تم نے ابلاغ کی کوشش کی میں بھی ہر ممکن کوشش کروں کہ آپ کے دلوں میں سچائی کو جاگزیں کر سکوں لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے ہوتا وہی ہے جو خدا کو منظور ہو اگر وہ نہ چاہے تو پھر کسی کو توفیق نہیں مل سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: کوئی کسی ادنی درجہ کے نواب کی خیانت کر کے اس کے سامنے نہیں ہوسکتا تو پھر 66 احکم الحاکمین کی خیانت کر کے کس طرح اسے اپنا چہرہ دکھلا سکتا ہے۔“ ( البدر جلد 2 نمبر 26 صفحہ : 202، مؤرخہ 17 جولائی 1903ء) کاش کوئی اس بات کو سمجھ جائے کہ جیسا بھی چہرہ ہے خدا کو دکھلا نا ہوگا اور عمر بھر اس کی خیانت کرتے گزرگئی تو کون سا منہ لے کے خدا کے حضور حاضر ہوں گے۔چھوٹے سے ایک فقرے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سارے مضمون کی جان ڈال دی ہے۔کتنا دل کو ہلا دینے والا فقرہ اور ضمیر کو جگا دینے والا فقرہ ہے۔ادنی درجہ کے نواب کی خیانت کر کے اس کے سامنے نہیں ہوسکتا۔یہ بالکل ٹھیک ہے ) تو احکم الحاکمین کی خیانت کر کے کس طرح اسے اپنا چہرہ دکھلا سکتا ہے۔“ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: میں جو بار بار تاکید کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ) کی راہ میں خرچ کرو۔یہ خدا (تعالی) کے حکم سے ہے کیونکہ اسلام اس وقت تنزل کی حالت میں ہے۔بیرونی اور اندرونی کمزوریوں کو دیکھ کر طبیعت بے قرار ہو جاتی ہے۔اور اسلام دوسرے مخالف مذاہب کا شکار بن رہا ہے۔“ (الحکم جلد 10 نمبر 47 صفحہ:3 مؤرخہ 31جولائی1906ء) یہ صورت حال ہے اس وقت جس کی وجہ سے مجھے امریکہ کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ضرورت پیش آئی ہے۔میں نے اب یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ جن لوگوں کے متعلق مجھے قطعی علم ہے کہ وہ اس قسم کی بددیانتیوں کا شکار ہیں اور دھوکا دے رہے ہیں ان کے ساتھ وہی سلوک کروں گا جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کو الگ کر دیا جائے۔ان کے کسی چندے کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں۔وہ مساجد کے نام پر دے رہے ہوں یا چندہ عام کے نام پر دے رہے ہوں یا وصیت کے نام پر دے