خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 441 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 441

خطبات طاہر جلد 17 441 خطبہ جمعہ 26 جون 1998ء محبوب ہے وہ تو ہے اور تو میرا اتنا محبوب ہو جا کہ ٹھنڈے پانی کی محبت سے بھی زیادہ یہ محبت ہو جائے۔اب ٹھنڈے پانی کی محبت تو ان لوگوں کو علم ہے جو پیا سے ہوں۔ورنہ کسی کو کیا پتا کہ ٹھنڈا پانی کیا چیز ہے۔یہاں آپ کے بچے کوکا کولا پیتے پھرتے ہیں۔اور اپنی صحت برباد کر دیتے ہیں لیکن اگر ان کو حقیقی پیاس ہو واقعۂ دل ترس رہا ہو پیاس سے تو کوک کو اُٹھا کر ایک طرف پھینک دیں گے۔اُس وقت ٹھنڈے پانی سے بہتر اور کوئی چیز نہیں۔تو یہ جذبہ ہے اس دعا کا کہ اے اللہ مجھے محبت عطا فرما ایسی محبت کہ کوئی چیز اتنی مجھے سیراب نہ کر سکے جو تیری محبت کرے۔یہ رسول اللہ صلی یتیم کی عاجزانہ دعا تھی جسے باقاعدگی سے آپ ملائیشیا یہ تم مانگتے تھے اور میں جماعت کو بھی یہ سکھاتا ہوں کہ تم اپنے لئے یہ دعا کرو کیونکہ بغیر اللہ کی مدد کے تمہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔جب اللہ کی محبت عطا ہوگئی تو پھر سب مسائل حل ہو گئے۔پھر خدا کی راہ میں جو کچھ بھی خرچ کرنے کا تقاضا ہوگا کریں گے اور سمجھیں گے کہ کم ہوا ہے، جتناحق تھاوہ ادا نہیں ہو سکا۔حضرت مصلح موعودؓ کو یہ شعر بہت پسند تھا: جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا (مرزا اسد اللہ خاں غالب) یہی مضمون ہے جو بیان کرتے تھے۔غالب کے سارے شعروں میں سب سے زیادہ عزیز آپ کو یہ شعر تھا کہ: جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا بہر حال حضرت مصلح موعود عرض کیا کرتے تھے خدا کے حضور کہ ہم نے جو کچھ پیش کیا ہے یہ گھر سے تو نہیں لائے سب کچھ تیری عطا تھی۔جان دے سکتے ہیں مگر لائے کہاں سے تھے وہ بھی تو تو نے عطا کی تھی۔حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔کسی صورت ہم تیری عبادت کا حق ، تیری غلامی کا حق ، تیری بندگی کا حق ادا نہیں کر سکتے۔یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے اگر یہ بات سمجھیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ تو فیق عطا فرمائے تو پھر خدا تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے آپ کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا سلیقہ آجائے گا دور نہ عمر گزار دیں گے اور وہ وقت آ جائے گا جب جان حلقوم کو پہنچے گی اور آپ کا مال آپ کا مال نہیں رہے گا۔پھر خدا کے فرشتے جو سلوک کریں وہی سلوک آئندہ بھی آپ سے وہاں جا کے بھی ہوگا۔