خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 33
خطبات طاہر جلد 17 33 خطبہ جمعہ 9 جنوری 1998ء یعنی روزہ کی جو لذت افطاری کے وقت آتی ہے اس کو روزہ دار ہی جانتا ہے کہ کس قدر مزہ کی بات ہے، کیسا دل کشادہ ہو جاتا ہے، فرحت محسوس کرتا ہے پانی کا ایک ایک قطرہ پیارا لگتا ہے لیکن اس کی روح کی لذت تو وہ ہے جب خدا تعالیٰ کی ملاقات نصیب ہوگی اور اس کی روح کی ساری پیاسیں بجھائی جائیں گی۔یہ حدیث بہت گہرے معانی پر مشتمل ہے اور روزمرہ کے دستور کو دہرایا گیا ہے کہ روزہ کے دوران تمہیں ابتلا پیش آئیں گے۔کوئی جھگڑے گا، کوئی زیادتی کرے گا، کوئی سختی سے پیش آئے گا تو تمہیں اس کے سوا کوئی جواب نہیں دینا کہ میں روزہ دار ہوں۔اس کے بعد روزہ دار کے منہ کی بو کا ذکر ہو گیا۔یہ کیوں ہوا؟ اس کا کیا تعلق ہے؟ تعلق یہ ہے کہ جو شدید جھگڑے کے وقت بھی منہ نہیں کھولتا اور غلط باتوں سے پر ہیز کرتا ہے، کھانے سے بھی اور پینے سے بھی پر ہیز کرتا ہے، اس کا منہ اللہ کی خاطر بند ہے اور جب منہ دیر تک بند ر ہے تو اس میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے۔تو ایک طرف یہ فرمایا کہ اس کو کہہ دو کہ میں اللہ کی خاطر خاموش رہوں گا اور اس خاموشی کے نتیجہ میں تمہارے منہ میں جو بد بو سارا دن منہ بند رکھنے سے اور نہ کھانے سے پیدا ہوتی ہے اللہ فرماتا ہے وہ مجھے بہت پیاری لگتی ہے۔پس یہ سارے معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں، ان میں ربط ہے۔آنحضرت صلی لا یہ ستم کا کلام باہمی ربط سے پہچانا جاتا ہے اور یہ ربط اللہ تعالیٰ کے فضل سے بالکل ظاہر ہے یعنی آپ غور کریں گے تو ظاہر ہوگا کیوں میں جزا بنتا ہوں؟ یہ بحث ہو رہی ہے۔فرمایا اس نے اپنا یہ حال خدا تعالیٰ کی خاطر کیا ہے۔اب مومن تو اپنے منہ کی بو کے متعلق بڑا سخت حسّاس ہوتا ہے۔آنحضرت صلا می ایستم کے منہ سے ہمیشہ خوشبو اٹھتی تھی جو پاکیزہ لعاب کے نتیجہ میں ایک پاکیزہ خوشبو ہے جس کو خوشبو کی لہریں آپ نہ بھی قرار دیں تو تازہ منہ رکھنے والے کی جو سانس ہے وہ اپنے اندر ایک ایسی مہک رکھتی ہے کہ اسے ایک خوشبو نہ بھی کہیں تو وہی دل پذیر ہے۔تو آنحضرت صل للہ الہام کا منہ ہمیشہ اللہ کی خاطر اس طرح صاف رہتا تھا اور بار بار آپ سلیم صاف کرتے تھے کہ اس سے آپ مسی یتیم کے پاکیزہ لعاب دہن کے سوا اور کوئی بو نہیں آیا کرتی تھی۔پس فرمایا کہ جس نے اپنا یہ حال خدا کی خاطر بنالیا ہو۔‘ اس سے مجھے لگتا ہے بلکہ یقین ہے کہ رسول اللہ صلی ا تم اپنی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ میں کتنا پاکیزہ ہوں، میرے منہ میں بھی شاید اس روزہ رکھنے کے نتیجہ میں وہ ہلکی سی بوداخل ہو چکی ہو جس سے میں کتنا پر ہیز کرتا ہوں کتنا دور بھاگتا ہوں۔