خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 32 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 32

خطبات طاہر جلد 17 32 خطبہ جمعہ 9 جنوری 1998ء کا فیصلہ کرو گے تو آج کی رات تمہاری آزادی کی رات ہوگی۔یہ حدیث ہے جو رمضان کے دوران اور رمضان کی راتوں میں غور کے لئے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔پس ہر شخص کو ، ہر رات کو اپنا محاسبہ کرنا ہوگا کہ یہ رات اس کے لئے آزادی کا پیغام لائی ہے کہ نہیں اور اس کی آزادی کا پیغام اس کے شیطانوں کے جکڑے جانے کا پیغام ہی ہے یعنی مومن کی آزادی اور شیطانوں کا جکڑا جانا یہ بیک وقت ایک ہی معنی رکھتے ہیں اور بیک وقت اطلاق پاتے ہیں۔اب یہ حدیث بھی ایسی ہی حدیث ہے جس کا ہر سال رمضان المبارک کے خطبوں میں ذکر تو ہوتا ہے لیکن تمام باتیں آنحضرت سلیم کی باتیں ہیں اور ہر بات ایک نیا مزہ رکھتی ہے، نئی شان رکھتی ہے اور رمضان کی برکات کو سمجھنے میں اور جن چیزوں سے پر ہیز لازم ہے ان کو سمجھنے میں بہت مددگار ثابت ہوتی ہے، ان حدیثوں میں سے ایک یہ بھی ہے۔حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی السلام نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: انسان کے سب کام اس کے اپنے لئے ہیں مگر روزہ میرے لئے ہے اور میں خود اس کی جزا ہوں گا۔( یعنی اس کی اس نیکی کے بدلہ میں اسے اپنا دیدار نصیب کروں گا ) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے روزہ ڈھال ہے پس تم میں سے جب کسی کا روزہ ہو تو نہ وہ بیہودہ باتیں کرے، نہ شور و شر کرے۔اگر اس سے کوئی گالی گلوچ کرے یا لڑے جھگڑے تو وہ جواب میں کہے کہ میں تو روزہ دار ہوں قسم ہے اس ذات کی۔(اللہ کی شان ہے محمد رسول اللہ لیا ایم کی قسم دیکھیں کیسی شان دار قسم ہے ) جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی یم کی جان ہے۔(اس سے بڑی قسم مومن بندے اپنے حق میں سوچ بھی نہیں سکتے ) قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد لی لی ایم کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے زیادہ پاکیزہ ہے اور خوشگوار ہے۔( کیونکہ اس نے اپنا یہ حال خدا تعالیٰ کی خاطر کیا ہے ) روزہ دار کے لئے دو خوشیاں مقدر ہیں ایک خوشی اسے اس وقت ہوتی ہے جب وہ روزہ افطار کرتا ہے اور دوسری اس وقت ہوگی جب روزہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ملاقات نصیب ہوگی۔“ 66 (سنن النسائی، کتاب الصيام ذكر الاختلاف على أبي صالح۔۔۔۔حدیث نمبر : 2218)