خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 419 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 419

خطبات طاہر جلد 17 419 خطبہ جمعہ 19 جون 1998ء قرآن کریم کی جس تعلیم کو بھی آپ چاہیں اس کو رڈ کر سکتے ہیں اس پر عمل نہیں کر سکتے۔عمل نہ کرنا چاہیں نہ کریں لیکن لازماً اس کا نقصان پہنچے گا۔یہ ہو نہیں سکتا کہ قرآن کریم کی کوئی چھوٹی سی تعلیم بھی آپ نظر انداز کر دیں اور کہیں مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے اور اس کے بغیر پھر آپ کو کوئی گہرا نقصان نہ پہنچ جائے۔تو یہ مطلب ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک بھی تعلیم ایسی نہیں جو ز بر دستی ماننی پڑے۔ایسی بات ہے جیسے آپ کو کوئی کہے کہ یہ دودھ نہ پیویہ زہریلا ہے۔اب اس میں زبردستی تو کوئی نہیں ہوگی۔اگر وہ کہے اچھا پینا ہے تو پیو تمہاری مرضی ہے۔اب آپ انکار کر دیں کہ میں بالکل نہیں مانوں گا میں ضرور پیوں گا اور جب پیئیں گے تو اس وقت سمجھ آئے گی کہ حکم نہ ماننے کے نتیجے میں کیسا نقصان پہنچا ہے۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی ملی لیا کہ تم نے جو تعلیمات ہمارے سامنے رکھی ہیں ان میں ایک بھی ایسی نہیں ہے جسے نظر انداز کیا جاسکے۔وہ تعلیمات ساری انسانی زندگی کا خلاصہ ہیں۔چھوٹے سے چھوٹے حکم پر بھی اگر عمل نہیں کریں گے تو اس کا نقصان اٹھا ئیں گے۔اب یہ بات احمدیوں کے لئے سمجھنی اس لئے ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود کی تحریرات کو اگر پوری طرح نہیں سمجھیں گے تو ان کو سمجھ نہیں آئے گی کہ اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں میں زور کیوں دے رہے ہیں۔آگے جو میں عبارتیں پڑھ کے سناؤں گا اس میں مثلاً یہ ذکر ملتا ہے کہ کوئی ادنی سے حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے اوپر بند کر لیتا ہے۔تو اب سوچیں آپ میں کتنے ہیں یا میں اپنی ذات کو سوچوں کہ بارہا کتنی دفعہ معمولی معمولی بعض حکموں کو معمولی سمجھ کر کہ دیکھنے میں معمولی تھے ان کو نظر انداز کیا ہے۔نجات کا دروازہ بند کرنے کا کیا مطلب ہے۔مطلب یہ ہے ان احکامات سے تعلق رکھنے والی جو نجات ایک طبیعت کا حصہ ہے اس نجات سے آپ ضرور محروم رہ جائیں گے۔اگر کسی شخص پر آپ نے سختی کی ہے اور وہ سختی جائز نہیں تھی تو جوز بر دستی کرنے والا ہے وہ کر بھی سکتا ہے مگر اس سختی کا نقصان ضرور اس کی ذات کو پہنچے گا ، اس کے ضمیر کو پہنچے گا، اس کی شخصیت پہ ایک قسم کا زنگ آجائے گا جب تک وہ اس کی اصلاح نہ کر لے۔تو یہ مراد نہیں ہے کہ اس شخص کی ہلاکت ناگزیر ہے۔مراد یہ ہے کہ تم واپس ان احکامات کی طرف لوٹو جن کو تم نے نظر انداز کر دیا تھا اور اس پر غور کرو اور دیکھو کہ ان پر عمل نہ کرنے سے تمہیں کیا نقصان پہنچا ہے۔وہ لوگ جو یہ منکسرانہ مزاج نہیں رکھتے وہ سمجھتے ہیں کوئی فرق نہیں پڑتا اُن کے متعلق لازماً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فرمان