خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 418
خطبات طاہر جلد 17 418 خطبہ جمعہ 19 جون 1998ء زمانہ تھا۔پس اسی وجہ سے قرآن شریف دنیا کی تمام ہدایتوں کی نسبت اکمل اور اتم ہونے کا دعویٰ کرتا ہے کیونکہ دنیا کی اور کتابوں کو ان تین قسم کی اصلاحوں کا موقعہ نہیں ملا۔“ اب یہ دیکھنے میں تو ایک دعوی ہے مگر اگر مذاہب کی تفصیل پر اور ان کے موجودہ حال پر نظر ڈالیں تو اس میں ایک ادنیٰ بھی شک نہیں رہ جاتا کہ پہلے مذاہب کو ان تینوں اصلاحوں کو بیک وقت کرنے کا موقع نہیں ملا۔یہ وہ مضمون تھا جو اسلام کے وقت کے لئے اُٹھا رکھا گیا تھا اس کے لئے جس نبی کی ضرورت تھی وہ ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ملا ہی تمہیں کسی اور نبی کو یہ توفیق مل نہیں سکتی تھی کہ یہ تینوں امور ہاتھ میں لے اور ان میں سے ہر امر کی ہر تفصیل میں جا کر برائیوں کی بیخ کنی کرے اور ان کے بدلے میں بھلائیوں کو ان کی جگہ جاگزیں کرے۔قرآن شریف کا یہ مقصد تھا کہ حیوانوں سے انسان بناوے اور انسان سے بااخلاق انسان بنادے اور با اخلاق انسان سے با خدا انسان بناوے۔اسی واسطے ان تین امور پر قرآن شریف مشتمل ہے۔( یہی تین امور قرآن کریم کا خلاصہ ہیں۔فرماتے ہیں:) قرآنی تعلیم کا اصل منشاء اصلاحات ثلاثہ ہیں۔اور طبعی حالتیں تعدیل سے اخلاق بن جاتی ہیں۔“ اب یہ جو نکتہ ہے یہ اسلامی اصول کی فلاسفی میں تفصیل سے بیان ہوا ہے اور اگر چہ اسلامی اصول کی فلاسفی کا سال ہم بڑے شدومد سے منا چکے ہیں اور اُمید رکھتے ہیں کہ سب نے اسلامی اصول کی فلاسفی کا گہرے دل سے مطالعہ کیا ہو گا مگر اس کے باوجود جب بھی میں اپنی سوال وجواب کی مجالس میں خصوصاً بعض احمدیوں سے پوچھتا ہوں تو پتا چلتا ہے کہ اسلامی اصول کی فلاسفی کی تہہ تک نہیں پہنچ سکے۔یہ کتاب ہی بہت گہری ہے اور اس پر ٹھہر ٹھہر کر غور کی ضرورت ہے ورنہ اسلامی اصول کی فلاسفی جن معارف اور حقائق کو لپیٹے ہوئے ہے ان کی کنہ تک پہنچنا ہر کس و ناکس کا کام نہیں۔فرماتے ہیں : ود قبل اس کے (کہ) جو ہم اصلاحات ثلاثہ کا مفصل بیان کریں یہ ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ قرآن شریف میں کوئی ایسی تعلیم نہیں جو ز بر دستی ماننی پڑے۔“ اب یہ بھی ایک ایسا عجیب دعوی ہے جس کو لوگ سرسری نظر سے پڑھیں گے تو ان کو تعجب لگے گا۔احکامات تو جتنے ہیں وہ فرائض ہیں۔”زبر دستی ماننی پڑے“ سے کیا مراد ہے؟ یہ امر واقعہ ہے کہ