خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 31 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 31

خطبات طاہر جلد 17 31 خطبہ جمعہ 9 جنوری 1998ء وو کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطانوں اور سرکش جنوں کو جکڑ دیا جاتا ہے اور آگ کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں اور اس کا ایک بھی دروازہ کھلا نہیں رکھا جاتا۔اس حدیث کا واضح اور قطعی مطلب یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے نیک بندے جن کو رمضان کے علاوہ عام دنوں میں شیطان بہکاتے رہتے ہیں اور کسی حد تک کبھی کبھی کامیاب بھی ہو جاتے ہیں اور وہ بڑے لوگ جن جن کو کہا گیا ہے وہ اپنے اثر کے تابع ان کو راہ راست سے بہکا دیتے ہیں۔یہ خدا کے بندے اگر واقعہ اللہ کے بندے ہیں تو پھر رمضان کی پہلی رات ان کے اندر ایک عظیم تبدیلی رونما ہوتی ہے، ہر شیطان کے خلاف کمر بستہ ہو جاتے ہیں، ہر بے ہودہ خیال کے خلاف اپنی تمام صلاحیتیں استعمال کرتے ہیں اور کسی شیطان، سرکش، گمراہ کرنے والے یا دنیاوی لحاظ سے بڑے انسان کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ ان کی زندگی پر رمضان کے دوران اثر انداز ہو۔پس رمضان میں ایک اللہ کے بندہ کی جو حالت ہے کس طرح وہ خدا کی طرف اپنے آپ کو Withdraw کر دیتا ہے یعنی اللہ کی طرف اپنے آپ کو پیچھے دھکیلتے دھکیلتے اس کی گود میں جابیٹھتا ہے یہ وہ بندے ہیں جن کے متعلق فرمایا کہ: ایک دروازہ بھی جہنم کا ان پر کھلا نہیں رہتا، کلیۂ ہر دروازہ بند ہوجاتا ہے۔اور منادی اعلان کرتا ہے کہ اے خیر کے طالب آگے بڑھ اور اے شر کے خواہاں رک جا اور جو 66 آگ سے آزاد کئے جاتے ہیں وہ اللہ کے بندے ہوتے ہیں اور ایسا ہر رات ہوتا ہے۔“ (جامع الترمذی، ابواب الصوم، باب ماجاء فی فضل شهر رمضان، حدیث نمبر :682) اب ہرحدیث اپنے حل کے لئے ایک چابی اپنے اندر رکھتی ہے۔یہ جو فقرہ اب میں نے پڑھا ہے اسی میں اس کی چابی ہے۔عباداللہ ، عباد الرحمن یہ ان لوگوں کی بات ہورہی ہے۔چنانچہ فرما یا جو آزاد کئے جاتے ہیں وہ اللہ کے بندے ہوتے ہیں اور ایسا ہر رات ہوتا ہے۔اب اس میں ایک عظیم الشان خوشخبری ہمارے لئے یہ ہے کہ اگر رمضان کی پہلی رات میں ہم سے ایسا نہیں ہوا تو شر سے، غیر اللہ سے آزادی دلانے کا اعلان ہر رمضان کی رات کو کیا جاتا ہے۔ہر رمضان کی رات کو اللہ کے فرشتے اترتے ہیں اور یہ اعلان عام کرتے ہیں کہ اے وہ لوگو جو بھی اللہ کے بندے بننا چاہتے ہو، اب بھی شیطان کے شر سے اور اس کی زنجیروں سے آزاد ہونا چاہتے ہو تو آ جاؤ۔اگر آج تم اللہ کے بندے بننے