خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 417
خطبات طاہر جلد 17 417 خطبہ جمعہ 19 جون 1998ء اللہ تعالیٰ کو کہنا پڑا کہ حُرمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهُتُكُمْ - (النساء : 24) تمہاری مائیں تم پر حرام کی گئی ہیں۔اب اس فقرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس زمانے کی ہر بدی کھول کر رکھ دی ہے۔کیا ضرورت تھی، کیوں خدا نے فرما یا حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهُتُكُمْ ؟ اگر ماؤں کو حلال نہیں سمجھا جاتا تھا تو اس حکم امتناعی کی ضرورت ہی کیا تھی۔آدم خور بھی تھے۔دُنیا کا کوئی بھی گناہ نہیں جو نہیں کرتے تھے۔اکثر معاد کے منکر تھے۔“ یعنی یہ کوئی تصور نہیں تھا کہ ہم جی اٹھیں گے اور ہم سے پوچھا جائے گا، ہم سے جواب طلبی کی جائے گی اور یہ حقیقت ہے کہ آج کی دنیا میں اکثر گناہوں کا انتشار اسی بنیادی وجہ سے ہے۔بھاری اکثریت لوگوں کی وہ ہے جو سمجھتے ہیں ہم مر کے مٹی ہو جائیں گے اور پھر ہم سے کوئی نہیں پوچھے گا۔کچھ عرصہ پہلے ایک مجلس سوال و جواب میں بعض بڑے دانشور اور اُن میں بعض عیسائیت کے مناد بھی تھے وہ آئے ہوئے تھے ، شروع میں تو انہوں نے اس بات سے تعجب کیا کہ وہ معاد کے قائل نہیں۔اگر یقین ہو کہ میں عدالت کے سامنے پیش کیا جاؤں گا تو عدالت کے خوف سے ہی بہت سے گناہ جھڑ جاتے ہیں لیکن گناہوں کی کثرت بتا رہی ہے کہ خدا کی عدالت کے سامنے پیش ہونے کا کوئی تصور موجود نہیں۔لوگ عملاً یہی سمجھتے ہیں کہ مرے اور مٹی ہو گئے اور پھر کون جئے گا اس جواب طلبی کے لئے کہ تم کیا کیا کرتے تھے۔قرآن کریم نے اسی لئے اس مسئلہ کو بار بار اٹھایا ہے اور اس کا ایک طبعی نتیجہ یہ ہے۔بہت سے ان میں سے خدا کے وجود کے بھی قائل نہ تھے۔“ یہ دو باتیں ایسی ہیں اچھی طرح ان کو پلے باندھ لیں کہ کوئی قوم بھی خدا کی ہستی کی قائل نہیں رہ سکتی اگر وہ مرنے کے بعد جی اٹھنے اور سوال و جواب کی قائل نہ رہے۔ان دونوں عقائد کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ قوم یہ سمجھے کہ ہم مر کے مٹی ہو جائیں گے اور پھر خدا کی ہستی کے قائل ہوں۔خدا ایک بے معنی اور بے حقیقت چیز ہو جاتا ہے اور اگر یقین ہو کہ ہم دوبارہ بھی اٹھائے جائیں گے اور جواب طلبی ہوگی تو لازماً ایک خدا کو تسلیم کرنا پڑتا ہے جو مالک ہے، جو خالق ہے، جو حساب کرنے والا ہے اور اس کے سامنے ہم سب حساب دار ہوں گے۔فرماتے ہیں: ایسی قوموں کی اصلاح کے لئے ہمارے سید و مولی نبی صلی ہی تم شہر مکہ میں ظہور فرما ہوئے۔پس وہ تین قسم کی اصلاحیں جن کا ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں ان کا درحقیقت یہی