خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 395
خطبات طاہر جلد 17 395 خطبہ جمعہ 12 جون 1998ء پاکستان کی تاریخ ہو یا ایٹمی توانائی کی تاریخ اس میں اولین کردار جماعت احمدیہ نے ادا کیا (خطبہ جمعہ فرموده 12 جون 1998ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: گزشتہ دنوں پاکستان کو جو ایٹمی دھما کا کرنے کی توفیق ملی اس کے متعلق اخبارات میں بکثرت متضاد خبریں آتی رہی ہیں اور مختلف سائنس دانوں کے گروہ اپنے سرسہرا باندھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جس کی وجہ سے کچھ جگ ہنسائی بھی ہوئی ہے اور ہورہی ہے لیکن ایٹمی توانائی کی تاریخ کا آغاز بالکل بھلا دیا گیا ہے بلکہ اس کے برعکس جماعت احمدیہ پر ملاں اور ان کے چیلے چانٹے یہ الزام لگارہے ہیں کہ جب ایٹمی دھما کا ہوا تو ایک دھما کاربوہ میں بھی ہوا اور وہ سخت مایوسی اور غم وغصہ کا دھما کا تھا۔اتنی تکلیف پہنچی اہل ربوہ کو کہ یہ کیا حرکت ہو گئی کہ پاکستان نے ایٹمی توانائی میں اتنی ترقی کر لی ہے۔یہ ساری باتیں مولوی کی سرشت میں داخل ہیں وہ ہمیشہ حقائق کو چھپا کر پلید باتیں کرتا ہے جن کا حقائق سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا اور مولویوں کے رعب کے نتیجے میں وہ لوگ جن کو تاریخ یاد رہنی چاہئے تھی وہ بھی یا اس تاریخ سے نا واقف ہو گئے ہیں، ان کا دماغ مولوی کے شور نے بالکل صاف کر دیا ہے یا موجود تو ہے دماغ میں لیکن ڈر کے مارے بات نہیں کرتے۔اس سے پہلے کہ میں ایٹمی توانائی کی تاریخ جو حقیقی تاریخ ہے اس پر کچھ روشنی ڈالوں میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان ہو یا دنیا میں کہیں بھی مسلمان ملت کے مفاد کی بات ہو ہمیشہ بلا استثنا