خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 393
خطبات طاہر جلد 17 393 خطبہ جمعہ 5 جون 1998ء کو پڑھ کر ایسے شخص کو جھوٹا نہیں کہ سکتا۔بہت ہی جاہل اور کمینہ دشمن ہوگا، کوئی دہر یہ خدا کے غضب کا مارا ہوا جس کو ان باتوں میں مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت دکھائی نہ دے۔کون کہہ سکتا ہے یہ الفاظ ، جس کا دل گہرائی کے ساتھ اس مضمون میں ڈوبا نہ ہوا ہو۔”خدا پر بھروسہ کرنے کا نور چڑھا ہوا تھا اور جو جلالی اور جمالی رنگوں کو لئے ہوئے تھی۔یہ کیفیت یعنی اطاعت کی بات ہو رہی ہے اس لئے اس کو نر کی بجائے مادہ لفظوں میں بیان فرمایا گیا ہے۔جو جلالی اور جمالی رنگوں کو لئے ہوئے تھی۔اس میں ہی ایک کشش اور قوت تھی کہ وہ بے اختیار دلوں کو کھینچ لیتے تھے۔اور پھر آپ کی جماعت نے اطاعت الرسول کا وہ نمونہ دکھایا اور اس کی استقامت ایسی فوق الکرامت ثابت ہوئی کہ جو ان کو دیکھتا تھا وہ بے اختیار ہو کر ان کی طرف چلا آتا تھا۔“ آج ہمیں جماعت میں اس کشش کی ضرورت ہے۔آپ کے پیغام تو کتابوں کے ذریعہ بھی پہنچ جاتے ہیں لیکن جو پیغام آپ کا وجود پہنچائے اس سے بڑھ کر طاقتور کوئی پیغام نہیں ہوسکتا کیونکہ صحابہ کرام کی طرح یہ کشش آپ کے اندر ہوگی کہ جو کوئی دیکھے گا وہ بے اختیار چلا آئے گا۔ایسی فوق الکرامت ثابت ہوئی یعنی عام کرامتیں جو ہیں وہ بالکل معمولی باتیں ہیں فقیروں ، پیروں کی تعلیاں ہوا کرتی ہیں مگران کرامتوں سے بھی بڑھ کر کرامت یہ ہے کہ جو کوئی اسے دیکھے وہ بے اختیار چلا آئے۔غرض صحابہ کی سی حالت اور وحدت کی ضرورت اب بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو جو مسیح موعود کے ہاتھ سے تیار ہو رہی ہے اسی جماعت کے ساتھ شامل کیا ہے جو رسول اللہ صلی ال ہی تم نے تیار کی تھی اور چونکہ جماعت کی ترقی ایسے ہی لوگوں کے نمونوں سے ہوتی ہے اس لئے تم جو مسیح موعود کی جماعت کہلا کر صحابہ کی جماعت سے ملنے کی آرزور کھتے ہو اپنے اندر صحابہ کا رنگ پیدا کرو۔اطاعت ہو تو ویسی ہو، با ہم محبت اور اخوت ہو تو ویسی ہو۔غرض ہر رنگ میں ، ہر صورت میں تم وہی شکل اختیار کرو جو صحابہ کی تھی۔“ الحکم جلد 5 نمبر 5 صفحہ:1 ،2 مؤرخہ 10 فروری 1901ء)