خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 392 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 392

خطبات طاہر جلد 17 392 خطبہ جمعہ 5 جون 1998ء کی اطاعت سے جب دل کی نالیاں لبریز ہوگئیں اور بہر نکلیں تو اس سیلاب کو دنیا میں روک ہی کوئی نہیں سکتا تھا یہ مفہوم ہے۔یہ احمقانہ خیال ہے کہ پھر اس سیلاب کو کسی تلوار کی ضرورت ہے۔یہ اس اطاعت اور اتحاد کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے دوسرے دلوں کو تسخیر کر لیا۔“ جب ایسی نالیاں بہ نکلیں، ایسا Flood آ جائے جس کے نتیجہ میں دل تسخیر ہور ہے ہوں تو تلوار کی کیا ضرورت ہے، تلوار کا موقع کیا ہے۔میرا تو یہ مذہب ہے۔( یعنی مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں :) میرا تو یہ مذہب ہے کہ وہ تلوار جوان کو اٹھانی پڑی وہ صرف اپنی حفاظت کے لئے تھی۔ورنہ اگر وہ تلوار نہ بھی اٹھاتے تو یقینا وہ زبان ہی سے دنیا کو فتح کر لیتے سخن کز دل بروں آید نشیند لا جرم بر دل۔( یعنی وہ کلام جو دل سے نکل رہا ہو وہ بلا شبہ دل میں جا کر بیٹھ جایا کرتا ہے، دل سے نکلی بات دل پر اثر کرتی ہے۔فرماتے ہیں : ) انہوں نے ایک صداقت اور حق کو قبول کیا تھا اور پھر سچے دل سے قبول کیا تھا۔اس میں کوئی تکلف اور نمائش نہ تھی۔ان کا صدق ہی ان کی کامیابیوں کا ذریعہ ٹھہرا۔یہ سچی بات ہے کہ صادق اپنے صدق کی تلوار ہی سے کام لیتا ہے۔(اس کو سچائی کی تلوار کے سوا کسی تلوار کی ضرورت نہیں ہے۔) آپ ( پیغمبر خداصلی له سیمی کی شکل و صورت جس پر خدا پر بھروسہ کرنے کا نور چڑھا ہوا تھا۔“ اب جس کو ہم نور سمجھ رہے ہیں وہ دکھائی تو نور کی طرح دیتا ہے لیکن ہے کیا چیز۔وہ توکل علی اللہ کا نور ہے۔جو شخص بات کرتے وقت جانتا ہو کہ خدا میرے ساتھ ہے اس کو جیسا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی یا یہ تم کونور عطا ہوا تھا،حصہ رسدی تو کل کا نور ملتا ہے۔پس محمد رسول اللہ صلی ہلم کے نور کو جسمانی ظاہر کرنے والے لوگوں کو کیا پتا کہ نور چیز کیا ہوتی ہے۔جسمانی نور تو دنیا میں بظاہر بڑے بڑے خوب صورت چہرے والوں کے چہروں پر دکھائی دینا چاہئے مگر اس نور میں کوئی حقیقت نہیں۔ایک بہت بڑا فرق ہے جسمانی حسن کے نور میں اور اس نور میں جو اللہ عطا فرماتا ہے اور یہ فرق دیکھنا ہو تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آنکھوں سے رسول اللہ ان کا تینم کا چہرہ دیکھیں۔آپ کی شکل وصورت جس پر خدا پر بھروسہ کرنے کا نور چڑھا ہوا تھا۔“ اب کوئی ادنی سی عقل رکھنے والا انسان بھی اس عبارت