خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 386 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 386

خطبات طاہر جلد 17 386 خطبہ جمعہ 5 جون 1998ء سوا کوئی سمجھ نہیں سکتا۔ان شرائط کے ساتھ جو میں نے بیان کی ہیں اگر کوئی کسی اولوالامر کی اطاعت کرتا ہے خواہ وہ چھوٹا سا انسان ہی ہو اس کے دل میں ایک عظمت پیدا ہو جاتی ہے، ایک کشادگی پیدا ہوتی ہے۔وہ جانتا ہے کہ دنیا کے لحاظ سے میں بڑا ہوں لیکن اس کی اطاعت اس لئے کر رہا ہوں کہ اللہ نے فرمایا ہے۔اس کی اطاعت اس لئے کر رہا ہوں کہ جس نے مجھ تک پیغام پہنچایا اس نے اللہ کا پیغام پہنچایا۔اُس وقت اس کا جھکنا اس کی عظمت کی دلیل ہوگی اور اس کو محسوس ہوگا کہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس ابتلا میں کامیاب ہو گیا ہوں۔اس وجہ سے وہ نور اور روح کو ایک لذت آتی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے اُس کی بنیادی وجہ یہ ہے۔مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں ہے جس قدر اطاعت کی ضرورت ہے۔“ لوگ مجاہدے کرتے ہیں بعض عمریں گنوا دیتے ہیں مجاہدوں میں، فرمایا مجاہدات کی اتنی ضرورت نہیں ہے اطاعت کی ضرورت ہے۔اطاعت سے انقلاب عظیم بر پا ہو سکتے ہیں۔مجاہدات سے ایک شخص کو خیال ہوسکتا ہے کہ میں جسم کمارہا ہوں یا میری روح کو پرورش مل رہی ہے لیکن اس سے ساری دنیا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔فرمایا: مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں ہے جس قدر اطاعت کی ضرورت ہے مگر ہاں یہ شرط ہے کہ سچی اطاعت ہو اور یہی ایک مشکل امر ہے۔(اطاعت کی ضرورت ہے مگر سچی اطاعت کا ہونا ایک مشکل امر ہے۔) اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کر دینا ضروری ہوتا ہے۔( دل کی تمناؤں کو اور دل کی خواہش کو ذبح کرنا پڑتا ہے جو ایک بہت مشکل امر ہے۔) بدون اس کے اطاعت ہو نہیں سکتی اور ہوائے نفس ہی ایک ایسی چیز ہے جو بڑے بڑے موحدوں کے قلب میں بھی بت بن سکتی ہے۔“ اور بڑی بڑی توحید کے دعوی کرنے والوں کے سینوں کے اندر بت رکھے ہوئے ہیں اور وہ بت کیا ہے؟ ہوائے نفس۔دل کی خواہش کو اللہ کے احکام پر جان بوجھ کر ترجیح دینا یہ تو سراسر واضح شرک ہے اور اطاعت نہ کرنے پر شرم محسوس کرنا اور حیا محسوس کرنا اور استغفار میں مبتلا ہونا اور رونا اور گریہ وزاری اختیار کرنا یہ واضح شرک نہیں ہے۔یہ فس انسانی کی کمزوریاں ہیں جو اگر نظر انداز کردی جائیں تو رفتہ رفتہ شرک میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ بات بڑے غور سے سنیں۔فرماتے ہیں: