خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 381
خطبات طاہر جلد 17 381 خطبہ جمعہ 5 جون 1998ء دس ہزار صحابہ کو پہلی کتابوں میں ملائکہ لکھا ہے اور حقیقت میں ان کی شان ملائکہ ہی کی سی تھی۔انسانی قومی بھی ایک طرح پر ملائکہ ہی کا درجہ رکھتے ہیں کیونکہ جیسے ملائکہ کی یہ شان ہے کہ يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ۔( وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔) اسی طرح پر انسانی قومی کا خاصہ ہے کہ جو حکم ان کو دیا جائے اُس کی تعمیل کرتے ہیں۔ایسا ہی تمام قومی اور جوارح حکم انسانی کے نیچے ہیں۔“ الحکم جلد 5 نمبر 30 صفحہ:2 مؤرخہ 17 اگست 1901) اب یہ تحریر بہت ہی لطیف مضمون کو بیان کر رہی ہے۔دس ہزار صحابہ کا ملائکہ ہونا ان معنوں میں کہ رسول الله لا یتیم کے ہر حکم کی پوری طرح تعمیل کرتے تھے اس سے مضمون شروع کر کے تو جسمانی قوی کی بات شروع کر دی۔یہ وہ بحث ہے جس کو بہت بڑے بڑے سائنس دانوں نے جن کا دماغ اور جسم کے باہمی رابطہ سے تعلق ہے جو اس مضمون پر غور کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا ہے اور آج ہی میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا اس میں یہی مضمون تھا، یعنی کوشش تھی اس شخص کی کہ اس کو سمجھ سکے اگر چہ سمجھ نہیں سکا، کیونکہ یہ مضمون ایسا ہے جو قرآن کریم جانے والا ہی سمجھ سکتا ہے۔بہر حال ماحصل ساری تحقیق کا یہ ہے کہ دماغ کے اندر کوئی آمر حکم دینے والا موجود ہے اور تمام نظام جسمانی سو فیصد اس حکم کی تعمیل پر مجبور ہے۔بیماری اس کو کہتے ہیں کہ حکم ہو اور عمل نہ ہو جہاں یہ واقعہ ہوا وہاں بیماری شروع ہوگئی۔سارا نظام جسمانی بے کار ہو کر رہ جاتا ہے اگر وہ آمر جو دماغ میں خدا نے بٹھایا ہوا ہے اس کے ماتحت اس کی باتوں پر عمل نہ کریں اور اس کی باتوں کا سارے نظام جسمانی تک پہنچانے کا نظام اتنا باریک ہے اور اتنا تفصیلی ہے کہ اگر کہا جائے کہ ارب ہا ارب واسطے بیچ میں موجود ہیں اور ان میں سے ہر واسطہ کی تفصیل موجود ہے تو یہ مبالغہ نہیں ہے، یہ کم ہوگا۔جتنا بھی مطالعہ آپ کر کے دیکھ لیں ، میں نے بہت مطالعہ کر کے تفصیل سے اس مضمون کو سمجھنے کی کوشش کی ہے یعنی سائنس دان کی زبان سے، بالآخر اسی نتیجے پر پہنچا کہ سائنسدان تفصیل تو بیان کر دیتے ہیں مگر وجو ہات کہ کیوں ایسا ہو رہا ہے؟ کیوں ایک بار بط نظام ہے جو کائنات کے نظام کی طرح باربط ہے؟ کیوں ایسا ہوا ہے؟ یہ بیان نہیں کر سکتے۔یہ جانتے ہیں کہ اگر دماغ کے اندر جو اولوالامر بیٹھا ہوا ہے وہ سارا جسم جو مامور ہے اس کو فرشتوں کی طرح اس کی تعمیل کرنی چاہئے اگر وہ تعمیل سے کسی ایک جگہ بھی ، ایک معمولی سے حصہ میں