خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 380
خطبات طاہر جلد 17 380 خطبہ جمعہ 5 جون 1998ء جتنے خدا کے فرشتے ہیں وہ معتمد ہی ہیں۔پس اپنی ذات میں مگن ہو اور شکر کرو اور خدا کا جس حد تک احسان کا تصور باندھو اتنا ہی تمہارے لئے بہتر ہے۔اللہ کا احسان ہے کہ اس نے تمہیں اس قابل سمجھا، تمہیں ایک ایسا مقام عطا فرما یا جس میں کامل یقین ہے کہ تم اس مقام سے سر عمو بھی فرق نہیں کرتے۔اتنا بڑا اعزاز اور اس کو انسان سمجھے کہ میری سبکی ہو گئی ہے یہ تو بہت ہی بے وقوفی ہوگی۔ایسا شخص جو اس کو سیکی سمجھتا ہے وہ اس لائق ہی نہیں ہے کہ اسے معتمد بنایا جائے۔اب میں قرآن کریم کی اس آیت کی روشنی میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباسات آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ان اقتباسات سے معاملہ بالکل کھل جاتا ہے اور وہی مضمون حیرت انگیز طور پر ساری کائنات میں جاری ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جب میں نے اس آیت کے اس پہلو سے متعلق راہنمائی چاہی ، یعنی ان معنوں میں کہ آپ کی متعلقہ تحریرات کا مطالعہ کیا ، مجھے یقین تھا کہ انتہائی تفصیل کے ساتھ اور باریکی کے ساتھ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس موضوع پر روشنی ڈالی ہوگی ، میں دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ تمام نظام جسم کو بھی آپ زیر بحث لائے ہیں، دنیاوی طاقتوں اور سیاسی طاقتوں کے جو اولوالامر ہیں ان کو بھی زیر بحث لائے ہیں، دینی ذوالا مر کو بھی زیر بحث لائے ہیں، فرشتوں کو بھی اور انسانوں کو بھی اور ان کے متوازی کردار تمام زیر بحث لاکر ایک پہلو بھی اس مضمون کا آپ نے باقی نہیں چھوڑا۔تحریریں تو دو تین چنی ہیں میں نے ، اور بھی بہت سی تھیں جن کے متعلق زیادہ تفصیل سے مجھے بات کرنی پڑنی تھی کیونکہ سننے والے سمجھتے ہیں کہ یہاں تکرار ہے حالانکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات میں تکرار نہیں، اصرار ہوا کرتا ہے اور ہر مضمون کو جب ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ بیان فرماتے ہیں تو کوئی نہ کوئی ضرور نیا پہلو ہوتا ہے جس پر غور کر کے سمجھ آتی ہے اور اسے سمجھانے کے لئے بھی وقت چاہئے۔پس آج کا خطبہ میں نے چھوٹا کرنے کی کوشش کی ہے ہوسکتا ہے زیادہ ہی چھوٹا ہو گیا ہو مگر کوشش یہی ہے کہ تھوڑے وقت میں زیادہ باتیں آپ کو سمجھالوں اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے سمجھاؤں۔الحکم جلد 5 اور نمبر 17،30 اگست 1901ء میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی یہ تحریر شائع ہوئی ہے۔