خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 27
خطبات طاہر جلد 17 27 خطبہ جمعہ 9 جنوری 1998ء اللہ توجہ نہیں دے گا۔بعض دفعہ چھوٹے چھوٹے جھوٹ بے اختیار منہ سے نکل ہی جاتے ہیں کچھ زیب داستان کے لئے، کچھ کسی اور مقصد کے لئے لیکن ان میں اپنے نفس کو یا اپنے ساتھیوں کو بچانا مقصود نہیں ہوتا۔جہاں تک ممکن ہو اس جھوٹ سے بھی اعراض لا زم ہے لیکن عموماً سوسائٹی میں انسان لاشعوری طور پر ایسے جھوٹوں میں ملوث ہو ہی جاتا ہے اس حد تک یہ شرک نہیں ہیں، اس حد تک گناہ کبیرہ ہونے کے باوجود گناہ صغیرہ کا رنگ رکھتے ہیں یعنی جھوٹ تو کبیرہ گناہ ہے لیکن بالا رادہ نہیں بولا جارہا ،کسی کو دھوکا دینے کی خاطر نہیں بولا جا رہا، اپنے جھوٹے مقاصد حاصل کرنے کی خاطر نہیں بولا جارہا اس پہلو سے ایسا جھوٹ عملاً صغیرہ رہتا ہے اور جھوٹی قسموں والی بات کے تابع اللہ تعالیٰ ان سے درگزر فرما دیتا ہے لیکن جب اس جھوٹ کو عام سوسائٹی میں شہرت حاصل ہو جائے یعنی سوسائٹی میں عام طور پر اس قسم کے جھوٹ کا غلبہ ہو جائے تو میرا تجربہ ہے کہ ایسی سوسائٹیاں لازماً پھر بڑے جھوٹ میں ملوث ہونے لگتی ہیں۔ان کا امتحان اس وقت آتا ہے جب ان کی اپنی ضرورت ان کو مجبور کرتی ہے کہ کوئی جھوٹ بولیں۔اگر انہوں نے اپنی ضرورت کی خاطر کوئی جھوٹ بولا تو پہلے سارے لغو جھوٹ اُن کے گناہ کبائر بن جائیں گے۔یہ امتحان ہے، یہ Test Case ہے۔ایسا شخص اگر اس وقت رک جائے جب اس کے مفادات اس سے تقاضا کریں کہ تم ضرور جھوٹ بولو اور کوڑی کی بھی پروانہ کرے کہ اس کی ذات کے ساتھ کیا ہوتا ہے ایسی صورت میں اس کے وہ سارے جھوٹ لغویات میں سے ہوں گے جن سے مؤاخذہ نہیں کیا جائے گالیکن جہاں امتحان در پیش ہوا، جہاں اس نے ٹھو کر کھائی اور اپنے مقاصد یا اپنے رشتے داروں کے مقاصد کی خاطر جھوٹ کا سہارا لے لیا تو وہیں اور اس کی ساری لغویات کبائر میں شمار ہو جائیں گی۔یہ ایک اہم نکتہ ہے جسے آپ لوگ اچھی طرح سمجھ لیں کیوں کہ لغویات اسی وقت تک لغویات ہیں جب تک وہ شرک پہ منتج نہیں ہوتیں۔جو نہی ایسا شخص واضح طور پر شرک میں ملوث ہو گیا وہ پھر لغویات نہیں کہلائیں گی۔وہ اسکی روز مرہ کی حرکتیں اس کا ایک شرک میں ملوث ہونا ثابت کریں گی۔پس میں آپ سے امید رکھتا ہوں کہ اس حدیث نبوی صلی یہ تم پر جتنا بھی گہرا غور کریں گے آپ مزید عارفانہ نکات حاصل کرتے رہیں گے کیونکہ جھوٹ کے خلاف جنگ ایک بہت عظیم جہاد ہے۔جماعت احمدیہ کا جہاد کا دعویٰ اس وقت تک سچا ثابت نہیں ہو سکتا جب تک عالمی طور پر جماعت احمد یہ