خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 362 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 362

خطبات طاہر جلد 17 362 خطبہ جمعہ 29 مئی 1998ء تمہارے پاس بھی ہے۔حقیقت میں یہ بات ایسے نہیں جیسے دکھائی دے رہی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان اور ہندوستان دونوں کے ایٹم بمز کے متعلق یا ان کے بم بنانے کی صلاحیت کے متعلق اور بموں کا جتنا ذخیرہ وہ اکٹھے کر چکے ہیں ان کے متعلق تمام تجسس عالمی طاقتوں کو شروع سے علم ہے۔جو وہ جھوٹ بول رہے ہیں اور دھوکا دے رہے ہیں یہ سراسر برصغیر میں ایک فساد پھیلانے کی ایک مذموم کوشش ہے، جو ایک جال بنا گیا ہے وہ انہوں نے ڈال دیا ہے اور اس جال کے ڈالنے میں ہندوستان بھی آلۂ کار بنا ہوا ہے اور ہندوستان کو علم نہیں کہ یہ دھوکا دینے والے لوگ ہیں۔جو دجل کا پہلو ہے اس کو آنحضرت صلی ا یہ تم نے چودہ سو برس پہلے بیان فرما دیا تھا۔ہندوستانی تو ، یعنی اکثران کے، رسول اللہ صلی ایتم کی اس پیش گوئی کو قبول نہیں کرتے لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی یہ تم نے جس قوم کی بعض صفات کو پیش نظر رکھ کر یا جن قوموں کی بعض صفات کو پیش نظر رکھ کر لفظ دجال کا اطلاق فرمایا تھا وہ آج عالمی طاقتوں پر بعینم پورا اُتر رہا ہے۔دجل اور فریب کی حکومت ہے جس کے نتیجے میں یہ جال بنتے ہیں اور پھر ڈالتے ہیں اور اس میں وہ مچھلیاں قابو آتی ہیں جو مجھتی ہیں کہ ہم ان کے جال میں قابو آنے والے نہیں، ہمیشہ قابو آ جاتی ہیں۔اب بظاہر یہ صرف پاکستان کے خلاف سازش ہے مگر حقیقت میں جیسا کہ حالات سے ظاہر ہوگا اور میں اس کا تجزیہ تفصیل سے پیش کروں گا یہ ہندوستان کے خلاف بھی سازش ہے۔یہ پاکستان اور ہندوستان کے عوام کے خلاف سازش ہے اور ان دونوں ملکوں کو ہمیشہ کے لئے ناکارہ کرنے کی ایک سازش ہے جس کے متعلق آئندہ حالات اپنے پر پرزے کھولیں گے تو آپ سب کو دکھائی دینے لگ جائیں گے۔یہ پس منظر ہے جس کے تعلق میں میں اب موجودہ حالات پر تبصرہ کرتا ہوں۔یہ جو کہا گیا کہ پہلا راؤنڈ ہندوستان جیت گیا، میں نے بھی ایک موقع پر یہی کہا تھا کہ دیکھنے میں لگتا ہے کہ پہلا راؤنڈ ہندوستان جیت گیا ہے مگر اس کے ساتھ ہی ایک دھمکی بھی ہے اور چیلنج بھی کہ تم بھی ایٹم بم چلا کے دکھاؤ۔یہ وہ چیز تھی جو میں نے جرمنی کے ایک سوال جواب کے موقع پر کھولی تھی کہ اس میں بہت خطرناک چال پوشیدہ ہے۔یہ بات تو سب پر عیاں ہونی چاہئے کہ آغاز ہی سے ان عالمی منجس طاقتوں کی پاکستان اور ہندوستان کے ایٹمی ذخائر پر گہری نظر ہے۔کوئی انتہائی بے وقوف ہوگا جو اس کا انکار کرے۔اس لئے ہندوستان کو بھی علم تھا کہ پاکستان کے پاس یہ ایٹمی ذخائر موجود ہیں۔