خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 361
خطبات طاہر جلد 17 361 خطبہ جمعہ 29 مئی 1998ء برصغیر پاک و ہند میں رونما ہونے والے واقعات کا حل صرف مقبول دعاؤں میں پوشیدہ ہے (خطبہ جمعہ فرمودہ 29 مئی 1998ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ کی تلاوت کی: اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الآمنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَ إِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ إِنَّ اللهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا پھر فرمایا: (النساء:59) یہ آیت جس کی میں نے تلاوت کی ہے یہ سورۃ النساء کی انسٹھویں آیت ہے اور بظاہر شاید یہ دکھائی نہ دے کہ اس کا گہرا تعلق پاکستان اور ہندوستان میں رونما ہونے والے واقعات سے ہے مگر جیسا کہ میں اس خطبہ کے دوسرے حصہ میں وضاحت کروں گا اس کا بہت گہرا اطلاق برصغیر میں رونما ہونے والے واقعات سے ہے اور ان مسائل کا حل بھی اسی میں شامل ہے جو آج ہمیں در پیش ہیں لیکن اس سے پہلے میں عمومی تبصرہ کرنا چاہتا ہوں تا کہ اس آیت کا پس منظر جو اس وقت دکھائی دے رہا ہے وہ روشن ہو جائے۔ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک پہلا راؤنڈ ہوا تھا جس کے متعلق خیال تھا کہ ہندوستان وہ راؤنڈ جیت گیا ہے اور پاکستان کو وہاں کے ایک وزیر نے کھلم کھلا چیلنج کیا کہ اب نکالوا اپنا ایٹم بم اگر