خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 359
خطبات طاہر جلد 17 359 خطبہ جمعہ 22 مئی 1998ء مگر فی الحقیقت یہ کہنا بہت مشکل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب تک ان تمام باتوں پر گواہ نہ ہو جاتے اس وقت تک یہ دعوی کر ہی نہیں سکتے تھے۔پس آج آپ ہیں اور میں خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ آپ ہیں جو صحابہ سے مل چکے ہیں۔یہ اعزاز کسے نصیب تھا، کسے نصیب ہوسکتا تھا۔چودہ سو سال کی محرومیوں کے بعد ہمیں خدا نے صحابہ کرام سے ملا دیا۔اتنا بڑا اعزاز کہ قرآن نے اس کا ذکر فرمایا۔فرمایا کہ ایسے آنے والے لوگ ہیں جو ابھی تک صحابہ سے نہیں مل سکے مگر ملیں گے اور ضرور ملیں گے۔پس اے جماعت احمدیہ ! تمہیں مبارک ہو اور بے انتہا مبارک ہو کہ تمہارا ذکر قرآن میں موجود ہے۔تمہارا ذکر محمد رسول اللہ صلی یا سیم کی زبان پر جاری ہو چکا ہے۔تم وہ ہو جن کو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بے انتہا قربانیاں اور دعائیں کر کے صحابہ سے ملا دیا ہے۔پس اس کا شکر جتنا بھی ادا کرو کم ہے اور ایک ہی صورت شکر کی ہے کہ ہم اس پیغام کو ہمیشہ آگے سے آگے بڑھاتے چلے جائیں۔مشعل بردار بن جائیں اس پیغام کے۔دنیا کے اندھیروں کو ان مشعلوں کے نور کے ساتھ جگمگا دیں۔جہاں بھی ہم جائیں اللہ کا وہ نور جو ہماری پیشانیوں کو عطا ہو ہمارے آگے آگے بھاگے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے جہاں بھی ہم جائیں ہر تاریکی کوروشنی میں بدل دیں۔یہی میری دعا اور یہی میری توقع ہے جو آپ سے بھی ہے اے مخاطبین جو جرمنی جماعت سے تعلق رکھتے ہو اور آپ کی وساطت سے ان سب سے بھی ہے جو دنیا میں اس وقت میرا یہ خطبہ سن رہے ہیں یا کل یا پرسوں سنیں گے۔یادرکھو ہمیں خدا نے ایک اعزاز بخشا ہے۔ایک ایسا اعزاز بخشا ہے جو درمیان کے تیرہ سوسال میں گزرنے والوں کو نہیں بخشا گیا۔اتنا بڑا اعزاز ہے اس کے شکر میں ساری زندگی خرچ کر دو تو وہ کم ہو گا اس شکر کا حق ادا نہیں کر سکو گے۔پس ایک آگ لگا لو اپنے دل میں ، ایک کو لگا لو کہ تم زندگی کے آخری سانس تک خدا تعالیٰ کی راہ میں خدمت دین میں جو کچھ ہے وہ خرچ کرتے رہو گے اور اس کے نتیجہ میں یہ نہیں سمجھو گے کہ دین پر تم نے کوئی احسان کیا۔اس کے نتیجہ میں یہی اقرار کرو گے کہ اللہ کا ہم پر احسان ہے۔اللہ کرے کہ یہ احسان آپ پر ہمیشہ آگے سے آگے بڑھتار ہے۔خدا کرے کہ ہم ان نیکیوں کو اس صدی میں ہی نہیں بلکہ اگلی صدی میں بھی ان کی پوری حفاظت کرتے ہوئے دھکیلتے چلے جائیں۔خدا کرے کہ دنیا کی کایا پلٹنے والے ہم ثابت ہوں اور دنیا ہماری کا یا نہ پلٹ سکے۔ان دعائیہ کلمات کے بعد اب میں اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں۔